قومی مسئلہ، سٹالنزم اور محنت کشوں کی بین الاقوامیت

تحریر: یاسر ارشاد

عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کے ساتھ ہر قسم کے تضادات اور تصادم شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔انتشار، عدم استحکام، سفارتی و تجارتی چپقلشیں اور طبقاتی جدوجہد تیز سے تیز ترہوتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہر قسم کی نسلی، مذہبی، لسانی، اور فرقہ وارانہ ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

دہشت گردی اور خانہ جنگی جہاں مختلف سماجوں کو تاراج کر رہی ہے وہاں طبقاتی استحصال کے ساتھ مظلوم و محکوم قومیتوں پر جبر اور انکا استحصال نئی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ اس صورتحال میں صدیوں سے محکومی کا جبر اور اذیتیں برداشت کرنے والی مظلوم قومیتوں کے اندر ریاستی اور سامراجی استحصال کے خلاف نفرت اور آزادی کی جدوجہد نئی شدتوں کے ساتھ دوبارہ ابھر رہی ہے۔مظلوم اقوام کی آزادی کی تحریکیں ابھر کر جدوجہد کے مختلف طریقوں کے ذریعے اس استحصال سے نجات کا راستہ تلاش کر رہی ہیں ۔ قومی مسئلہ ایک بار پھر نئے دھماکہ خیز نتائج لیے سر اٹھا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی قومی مسئلے کے حل کے تمام نظریات پر تند و تیز سیاسی بحثوں کا سلسلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ایک بار پھر ہمیں قوموں کے حق خودارادیت اور قومی مسئلہ پر مارکس اور لینن کے مباحثوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اس تمام تر کیفیت میں قومی آزادی کی تحریکوں کا جدلیاتی نقطہ نظر سے تجزیہ ان کے مستقبل کے حوالے سے اہم ضرورت اختیار کر گیا ہے ۔قومی مسئلہ پر قوم پرستی کے نقطہ نظر سے ہمیشہ ایک ہی حل پیش کیا جاتا ہے کہ مظلوم قوم کی مکمل علیحدگی اور خود مختاری مظلوم قومیت کے مسائل کا جادوئی حل ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اس علیحدگی کے حق میں لینن کے حق خودارادیت کے کتابچے کی چندسطور کو قومی مسئلہ پر مارکسزم کا حرف آخر سمجھا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر مارکسسٹوں سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ہر قومی علیحدگی کی تحریک کی سر گرم حمایت کریں نہیں تو وہ مارکسسٹ نہیں رہیں گے۔

مارکس، لینن اور قومی مسئلہ
اگر مارکس اور اینگلز کی تحریروں کا مطالعہ کیا جائے تو قوم پرستوں کی حق خودارادیت یا علیحدگی کی چیخ و پکار کے برعکس قومی مسئلے پر عہد اور حالات کے بدلتے تناظر میں ایک سائنسی سمجھ بوجھ اور وضاحت ملتی ہے ۔ قومی مسئلے پر مارکسی موقف کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ ہم مارکسی فلسفے کے اس بنیادی اصول کو مد نظر رکھیں جس پر مارکسزم کے سائنسی علم کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں ۔مارکسزم زماں و مکاں سے آزاد ٹھوس مادی حالات سے عاری تمام آفاقی سچائیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے واحد آفا قی سچائی کو تسلیم کرتا ہے اور وہ ہے ہر سطح پر جاری تبدیلی کا کبھی نہ رکنے والا عمل۔مسلسل اور لا امتناعی طور پر جاری تغیر اور تبدیلی کے اصول کی بنیاد پر ہی مارکسزم مختلف سماجی، سیاسی، معاشی اور دیگر سوالات پر کوئی موقف اپناتا ہے اور اس موقف کو بھی تغیر کے اصول پر پرکھ کر اس سے درست رہنمائی لی جا سکتی ہے نہ کہ کسی سیاسی موقف کو ایک بار قائم کر کے اسے تمام ادوار اور ہر خطے پر من و عن لاگو کیا جا سکتا ہے۔
مارکس اور اینگلز اپنی تمام انقلابی جدوجہد کے دوران پولینڈ کی قومی آزا دی کے ہمدرد رہے اور کئی مواقع پر اس کی سرگرم حمایت بھی کی لیکن اسی کے ساتھ وہ چیک اور بلقان کی دیگر ریاستوں کی قومی آزادی اور علیحدگی کی مخالفت بھی کرتے رہے۔دو مختلف خطوں کے ایک ہی جیسے مسئلے پر اس متضاد پوزیشن کی وجہ یہ تھی کے مارکس اور اینگلز قومی مسئلے کو ہمیشہ طبقاتی بنیادوں اور پرولتاریہ کی عالمی جدوجہد کی پیش رفت اورترقی کے تناظر کی بنیاد پر برتتے تھے۔دوسری جانب وہ ہمیشہ محکوم اقوام کے اندر موجود طبقاتی سوال کو کلیدی اہمیت دیتے تھے اور محکوم قوم کے محکوم طبقات کی آزادی اور نجات کے مسئلے کو پیش پیش رکھتے تھے۔
22 فروری 1848ء کو پولینڈ کی بغاوت کی دوسری سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مارکس نے کہا ’’ اگر پولینڈ کے جا گیر دار کے اوپر روس کا جاگیردار نہیں بھی رہے گا تو بھی پولینڈ کے کسان کے اوپر جاگیرداری کا بوجھ کم نہیں ہو گا صرف اتنا فرق ہو گا کہ ایک گماشتہ جاگیردار کی بجائے ایک آزاد جاگیردار ہو گا۔ اس قسم کی سیاسی تبدیلی کسانوں کی سماجی حیثیت میں کوئی بدلاؤ نہیں لا سکتی ٗ ٗ۔ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے بھی کسی قوم کی آزادی یا علیحدگی کے معاملے میں مارکسیوں کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل سوال یہ تھا کہ اس آزادی یا علیحدگی کے نتیجے میں اس قوم کے محکوم طبقات کو حکمرانوں کے استحصال سے نجات مل سکے گی یا نہیں؟ آج کے عہد میں یہ سوال اس لیے بھی پہلے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو چکا ہے کیونکہ مارکس کے عہد میں سرمایہ داری نظام کے اندر ذرائع پیداوار کو ترقی دینے کی ابھی کافی صلاحیت باقی تھی لیکن آج عالمی سطح پر سرمایہ داری نظام ذرائع پیداوار کو ترقی دینے کی صلاحیت سے مکمل طور پرمحروم ہو چکا ہے ۔ آج کے عالمی زوال کے عہد میں یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی خطے کے قومی مسئلے پر صرف یہ کہہ دیا جائے کہ متعلقہ قوم کے حق خود ارادیت یا علیحدگی پر عملدرآمد سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے او ر اگر ایسا کیا جاتا ہے تو مارکسزم کے نام پر اس سے بڑی ’عقیدہ پرستی ‘ اور ’لکیر کی فقیری‘اور کیا ہو سکتی ہے۔
لینن نے مارکس اور اینگلز کے نظریاتی اثاثے کی بنیادوں پر قومی مسئلے پر مارکسی موقف کو زیادہ وسیع اور جامع شکل دیتے ہوئے روس میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد میں تمام قومیتوں کے محنت کشوں کے طبقاتی اتحاد کو نا قابل تسخیر قوت میں ڈھالنے کے لئے انتہائی انقلابی مہارت کے ساتھ استعمال کیا۔ لینن نے تمام محکوم قومیتوں کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کی حمایت کرتے ہوئے تمام قوموں کے محنت کشوں کی طبقاتی جڑت کو قائم کرنے کے لئے ہر قسم کی قوم پرستی، تعصب اور علیحدگی کے نظریات کے خلاف بے رحمانہ جدوجہد کی۔ بالشویک انقلاب سے قبل زار شاہی روس کی 57 فیصد آبادی مظلوم قومیتوں پر مشتمل تھی جن میں یوکرائنی، جارجین، پولش، فنی اور دوسری چھوٹی قومیتیں شامل تھیں ۔روس میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے دوران لینن کے حق خودارادیت کے نعرے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تمام مظلوم قومیتیں قومی بنیادوں پر روس سے علیحدگی حاصل کرنے کی جدوجہد کریں تا کہ روس کی رجعتی سامراجی ریاست کو پاش پاش کیا جاسکے۔اگر ایسا ہوتا تو اکتوبر انقلاب کبھی بھی برپا نہیں ہو پاتابلکہ ایک خونریز انتشار پورے خطے کو برباد کر دیتا۔در حقیقت قوموں کا حق خود ارادیت سوشلسٹ انقلاب کی عالمی جدوجہد کے عبوری پروگرام کا ایک جزو ہے نہ کہ اپنے تئیں کوئی الگ نظریہ یا پروگرام۔ تنگ نظر قوم پرست لینن کے اس نعرے کو اپنے محدود مقاصد کے لئے ہمیشہ مسخ کر کے پیش کرتے ہوئے محنت کشوں اور نوجوانوں کے ذہنوں کو ہر قسم کی متعصبانہ اور رجعتی قوم پرستی کے زہر سے آلودہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قوموں کے حق خودارادیت نامی کتابچے میں لینن طبقاتی موقف کی وضاحت ان الفاظ میں کرتا ہے۔ ’’قوموں کے حق خودارادیت کے سوال پر اور جیسا کہ ہر دوسرے سوال پر ہماری اولین اور سب سے کلیدی دلچسپی متعلقہ قوم کے پرولتاریہ کے حق خودارادیت سے ہے‘‘۔ دوسری جانب اس نعرے کا ہمیشہ یہ مطلب نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ علیحدگی کے ہر مطالبے کی کھل کر حمایت کرنابھی مارکسیوں پرواجب ہے۔ ریاستوں کی علیحدگی کے مسئلے پر لینن اسی کتابچے میں لکھتا ہے۔ ’’ہر قوم کی علیحدگی کے سوال کا ہاں یا نہیں میں جواب کا مطالبہ بظاہر بہت عملی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔ درحقیقت یہ واہیات بات ہے، نظریاتی حوالے سے یہ مابعدالطبیعاتی طرز فکر ہے جبکہ عمل میں یہ پرولتاریہ کو بورژوا پالیسی کا مطیع بنانے کا باعث بنتا ہے‘‘۔ لینن کا قومی مسئلے پر موقف در حقیقت ایک آزادانہ طبقاتی موقف ہے جو ایک جانب جابر قوم کے محنت کشوں کے اپنے حکمرانوں کی سامراجی جارحیت کے خلاف محکوم قوم کے محنت کشوں کی مکمل آزادی کی حمایت کے آزادانہ طبقاتی موقف پر مبنی ہے تو دوسری جانب محکوم قوموں کے رجعتی اور گماشتہ حکمرانوں کی متعصبانہ علیحدگی پسندگی کے خلاف ان قوموں کے محنت کشوں کی آزادانہ طبقاتی اور بین الاقوامی پرولتاری یکجہتی کے حصول کی جدوجہد کا آئنہ دار ہے۔
مارکسزم پرولتاریہ کی بین الاقوامی طبقاتی جڑت کا نظریہ ہے۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو میں مارکس اور اینگلز نے واشگاف الفاظ میں یہ لکھا تھا کہ’’ کمیونسٹوں پرایک الزام یہ ہے کہ وہ وطن اور قومیت کو مٹا دینا چاہتے ہیں ۔ درحقیقت مزدوروں کا وطن نہیں اور جو چیز ان کے پاس ہے ہی نہیں اسے ان سے کون چھین سکتا ہے‘‘۔لیکن سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد میں مختلف قوموں کے محنت کشوں کے درمیان طبقاتی جڑت تشکیل دینے کے لیے مارکسسٹوں نے ہمیشہ اور ہر جگہ ایک قوم کے دوسری قوم پر ہر قسم کے جبر کی نہ صرف بھر پور مخالفت کی ہے بلکہ ہر قسم کی قومی برتری کے خلاف بھی جدوجہد کی ہے۔ قوموں کا حقِ خود ارادیت بشمول حقِ علیحدگی کا یہی مقصد تھا اور ہے کہ تمام مظلوم قوموں پر حاکم اور جابر قوم کے جبر و تسلط کی نہ صرف مکمل مخالفت کی جائے بلکہ مظلوم اقوام کے اس حق کے لیے سر گرم جدوجہد کی جائے لیکن جیسا کہ پیٹی بورژوااور تنگ نظر قوم پرست اس کی یہ تشریح کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہر وقت ہر جگہ تمام قومیتوں کی علیحدگی کی حمایت ہوتا ہے یہ سراسر مارکسزم کے نظریات کی نفی ہے۔ لینن نے قومی سوال پر تنقیدی تبصرے میں قوم پرستی اور مارکسزم کے حوالے سے یہ وضاحت لکھی ’’مارکسزم کی کبھی بھی قوم پرستی کے ساتھ مصالحت نہیں ہو سکتی چاہے یہ قوم پرستی کی کتنی ہی منصفانہ، خالص اور مہذب شکل کیوں نہ ہو۔قوم پرستی کی تمام اقسام کے خلاف مارکسز م بین الاقوامیت اور تمام قوموں کے ایک بلند معیار کے اتحاد اور باہمی انضمام کے موقف کو پیش کرتاہے۔‘‘اسی کتابچے میں قوم پرستی کے ذریعے مختلف قومیتوں کے محنت کشوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے خلاف لینن یوں رقم طراز ہے’’ اگر ایک یوکرائنی مارکسسٹ جابر عظیم روسیوں کے خلاف اپنی فطری نفرت میں خود کو اس حد تک آگے جانے دیتا ہے کہ اس نفرت کا ایک معمولی سا ذرہ بھی یہ محض پرولتاری ثقافت اور عظیم روسی پرولتاریہ کے انقلابی مقصد سے لا تعلقی کی صورت میں ہی منتقل کرتا ہے تو ایسا مارکسسٹ بورژوا قوم پرستی میں غرق ہو جائے گا۔اس طرح وہ عظیم روسی مارکسسٹ بھی نہ صرف بورژوا بلکہ رجعتی (بلیک ہنڈریڈ) قوم پرستی کا شکار ہو جائے گا اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی یوکرائینوں کی مکمل برابری اور ان کے خود مختیار ریاست کی تشکیل کے حق سے پہلو تہی کرے گا‘‘۔
قومی مسئلے پر یہ وہ مارکسزم کا موقف تھا جس کی بنیاد پر بالشویک پارٹی نے تمام مظلوم قومیتوں کے محنت کشوں کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کو تسلیم کرتے ہوئے تمام قومیتوں کے محنت کشوں کے درمیان ایک طبقاتی جڑت اور یکجہتی قائم کی اور زار شاہی ریاست کا سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے خاتمہ کر کے سوویت یونین کی بنیاد رکھی اور دنیاکے کل رقبے کے چھٹے حصے پر انسانی تاریخ میں پہلی بار مظلوم عوام کا راج قائم کیا جسے مزدور راج کہا جاتا ہے۔سوویت انقلاب کے بعد 1920 میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کی دوسری کانگریس میں قومی اور نو آبادیاتی انقلاب کے حوالے سے ایک مختلف پیش رفت لینن کے پیش کردہ تھیسس کی صورت میں آئی جس کے ساتھ ایم ۔این رائے کے تھیسس کو بھی کانگریس نے متفقہ طور پر منظور کیا ۔ 25 جولائی 1920 کو کانگریس کے چوتھے سیشن میں لینن نے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’کمیشن میں ہمارے درمیان ایک دلچسپ بحث اس سوال پر ہوئی کہ کیا اس نظریے کو درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ ان تمام پسماندہ ممالک کے لیے معیشت کے سرمایہ دارانہ ترقی کے دور کو ضروری قرار دیا جاسکتا ہے جن میں حالیہ عالمی جنگ کے بعد ترقی پسندانہ تحریکیں جنم لے رہی ہیں اور جو ابھی ابھی نو آبادیاتی غلامی کے طوق سے آزادی حاصل کر رہے ہیں ۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس نظریے کو غلط قرار دیا جا سکتا ہے ۔ اگر فتح مند انقلابی پرولتاریہ ایک مربوط انقلابی پروپیگنڈہ کرتا ہے اور سوویت حکومت اپنے تمام درکار وسائل کے ساتھ مدد کرتی ہے تو یہ نظریہ غلط ہے کہ ان ممالک کے لیے سرمایہ دارانہ ترقی کے مراحل سے گزرنا ضروری ہے۔ کمیونسٹ انٹرنیشنل یہ اعلان کرتی ہے اور اس کی وضاحت کرتی ہے کہ پرولتاریہ اور ترقی یافتہ ممالک کی امداد کے ذریعے پسماندہ ممالک مراحل کے ایک سلسلے کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کے مرحلے کو پھلانگتے ہوئے سوویت تنظیم اور کمیونسٹ طرزِ پیداوارتک پہنچ سکتے ہیں‘‘۔
سوویت انقلاب کے فتح مند ہونے کے بعد قومی مسئلے اور نو آبادیاتی ممالک کے مستقبل کے حوالے سے نہ صرف لینن کا حق خود ارادیت کا نظریہ یکسر تبدیل ہو گیا تھا بلکہ نظریاتی حوالے سے ان ممالک کے ارتقاء میں سرمایہ دارانہ قومی جمہوری انقلاب کے مراحل کو یکسر پھلانگنے کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔لینن کے اسی تھیسس پر اگست ستمبر 1920 میں باکو میں تمام ایشیائی ممالک کی ایک کانگریس بلائی گئی جس میں 1900 سے زائد مندوبین نے شرکت کی تھی اور تمام ایشیائی ممالک میں سامراجی غلامی سے نجات کی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ کر مزدور ریاست کے قیام کی جدوجہد کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ سوویت انقلاب نے ہر قسم کی قومی تنگ نظری تعصبات اور نفرتوں کو مٹاتے ہوئے محنت کشوں اور مظلوم عوام کے عالمی اتحاد اور یکجہتی کو ایک حقیقت کا روپ دے دیا تھا۔

سٹالنزم اور قوم پرستی
سوویت انقلاب کے فتح مند ہو جانے کے بعد عالمی انقلاب کی جدوجہد نہ صرف تیز تر ہوگئی تھی بلکہ دنیا بھر کے محنت کشوں اور مظلوم و محکوم عوام کو اپنی نجات کا ایک درست سائنسی راستہ میسر آگیا تھا۔لیکن کئی ایک یورپی انقلابات کی شکست نے سوویت انقلاب کو تنہا کر دیا اور سامراجی ممالک کی انقلاب کو کچلنے کے لیے جارحیت اور اندرونی خانہ جنگی نے سوویت انقلاب کو معاشی، سیاسی اور ثقافتی حوالے سے ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر دیا 
روسی سماج کی تیکنیکی پسماندگی، جنگ کی بربادی اور انقلاب کے تنہارہ جانے کی وجہ سے سوویت انقلاب میں بیوروکریٹک زوال پذیری کا ایک ناگزیر عمل شروع ہوا جس نے مزدوروں کے معیشت، ریاست اور سماج پر اجتماعی اور جمہوری کنٹرول جس کا آغاز اکتوبر انقلاب کے بعد ہوا تھا کا خاتمہ کرتے ہوئے بیوروکریسی کی ایک پرت کو مضبوط کرنا شروع کر دیا ۔یہی وہ بیوروکریٹک زوال تھا جس نے سوویت یونین کے اندر ایک ملک میں سوشلزم کے پرانے منشویک نظریے کو رائج کرسکنے کی بنیادیں فراہم کیں۔ اگرچہ ٹراٹسکی کی قیادت میں بائیں بازو کی حزب مخالف نے مارکسزم کے حقیقی نظریات کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ ان میں مزید وسعت پیدا کی لیکن سوویت یونین کی منصوبہ بند معیشت کی تیز ترین ترقی نے حقیقی مارکسزم کے نظریات کو پیچھے دھکیلتے ہوئے سوویت بیوروکریسی کی طاقت اور سیاسی اختیار و کنڑول کو زیادہ مضبوط کر دیا۔ بیوروکریسی نے قومیائی ہوئی معیشت کی تیز ترقی سے پیدا ہونیوالی بے پناہ دولت کی لوٹ مار کے لئے عالمی انقلاب کی جدوجہد کو ترک کردیا اور دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں کو اپنی سفارت کاری کا آلہ کار بنا دیا۔
سوشلزم کو قومی حدود میں مقید کر کے ایک ملک میں سوشلزم کی تعمیر کو ممکن قرار دے کر نہ صرف مارکسزم کے نظریات کو مکمل طور پر مسخ کر دیا گیا بلکہ سوشلزم کی بین الاقوامیت کو قوم پرستی کے رجعتی زہر میں ڈبو کر ایک نیا نظریہ تخلیق کیا گیا جسے سٹالنزم کہا جاتا ہے۔ سٹالنزم سوشلزم اور قوم پرستی کا ملغوبہ ہے جس کا آغاز اور انت ہمیشہ قوم پرستی پر ہوتا ہے۔ سٹالنزم کے ابھار نے تیسری دنیا کے تمام نوآبادیاتی ممالک کے انقلاب کے حوالے سے 1920 کی کانگریس کی نظریاتی بنیاد کی بجائے دو مراحل پر مبنی انقلاب کے نظریے کو پوری تیسری دنیا کی سٹالنسٹ پارٹیوں پر مسلط کر دیا گیا۔ اس نظریے کی روح یہ تھی کہ تیسری دنیا کے ممالک میں چونکہ سرمایہ دارانہ ترقی ابھی ابتدائی سطح پر ہے لہذا ایسے تمام ممالک کی سٹالنسٹ پارٹیاں اپنے اپنے مما لک کے ترقی پسند سرمایہ داراروں کی حمایت کریں تاکہ وہ 50 یا 100 سال میں سرمایہ داری کے تاریخی فریضے پورے کریں اور اس کے بعد ان ممالک میں سوشلسٹ انقلاب کا وقت آئے گا۔ اس پالیسی پر عملدرآمد نے ان پارٹیوں کو انقلابی تحریک کی قیادت کرنے کی بجائے سرمایہ داروں کا دم چھلہ بنا دیا جس کے باعث چین، ہندوستان، ایران اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک کے انقلابات کو خون میں ڈبو دیا گیا۔ چین کا 1925-27 کا انقلاب سٹالنسٹ بیوروکریسی کی اسی پالیسی کے باعث خون میں ڈوب گیا۔1946 میں ابھرنے والا ہندوستان کا انقلاب جسے جہازیوں کی بغاوت بھی کہا جاتا ہے اسی پالیسی کے باعث ناکام ہوا جس کے بعد برطانوی سامراج اور ان کے مقامی گماشتے برصغیر کو رجعتی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
1949 کا چین کا انقلاب اپنے آغاز سے ہی انتہائی مسخ شدہ ہونے کے باوجود سوویت انقلاب کے بعد دوسرا بڑا عظیم انقلاب تھا۔سٹالنزم کی ہو بہو نقالی ہونے کے باوجود چین اور سٹالنسٹ روس کے درمیان لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بننے والے سوویت یونین کے برعکس قومی لڑائیوں، تنگ نظر مخاصمتوں نے ایک پھوٹ ڈال کے دنیا بھر کے انقلابیوں کومزید تقسیموں کا شکار کر دیا۔1943 میں سٹالن، چرچل اور روز ویلٹ کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں سٹالن نے سوویت انقلاب کے بعد بنائی جانیوالی تیسری انٹرنیشنل کو بھی تحلیل کر دیا۔اسی زوال پذیری کے بعد ہمیں قومی جمہوری یا عوامی جمہوری انقلابات جیسی اصطلا حات کے لبادے میں قوم پرستی کا پھیلاؤ نظر آتا ہے اوریہی وہ تاریخی بنیادیں ہیں جن پر دوسری عالمی جنگ کے بعدکے عرصے میں تمام مظلوم قومیتو ں کی تحریکوں پر زیادہ تر سٹالنزم کے نظریات غالب رہے جو حقیقی مارکسزم کی نہ صرف مکمل نفی تھے بلکہ قوم پرستی ہی کی مختلف شکلیں تھیں جو ان تحریکوں کو آزادی کی منزل کی جانب لے جانے کی بجائے اس سے مسلسل دور کرنے اور مایوسی و ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنے۔سوویت یونین کے انہدام اور چین میں سرمایہ دارانہ استواری نے ان رجحانات کی بنیادیں ہی مسمار کر دی ہیں۔ آج کے عہد کی ہر قسم کی قوم پرستی جو سوشلزم اور پرولتاری بین الاقوامیت سے عاری ہے اپنی تمام تر فطری دیانت داری اور خالص پن کے باوجود نظریاتی اور سیاسی طور پر بورژوا یا پیٹی بورژوا تنگ نظر قوم پرستی بن چکی ہے۔ یہ قوم پرستی اپنے نظریاتی دیوالیہ پن کے باعث نہ تو اپنے محنت کش طبقے اور وسیع تر عوام کی حمایت حاصل کرنے کی اہل ہے اور نہ ہی دوسرے ممالک کے محنت کشوں کی ہمدردی جیت پاتی ہے۔قوم پرستی کے نظریات کی تاریخی نا اہلی کی وجوہات سرمایہ داری نظام کے ترقی پسندانہ عہد کے خاتمے اور اس کے عالمی زوال میں پیوست ہیں۔ اپنے آغاز اور عروج کے عہد میں قومی جمہوری انقلابات کے ذریعے سرمایہ داری نظام نے جاگیرداری کا خاتمہ کرتے ہوئے جدید قومی ریاستوں کی بنیاد رکھی جو ایک انتہائی انقلابی پیشرفت تھی(جیسا کہ مغربی یورپ اور امریکہ میں ہوا) جس کے نتیجے میں سائنس اور تکنیک کو بے پناہ فروغ ملا۔لیکن اسی بے پناہ ترقی نے عالمی منڈی کے قیام اور سامراجی غلبے کے ذریعے پوری نام نہاد تیسری دنیا میں قومی جمہوری انقلاب کے فرائض کی تکمیل کے عمل کو اپاہج بنا دیا۔قومی مسئلہ تاریخی طور پر قومی جمہوری انقلاب کے غیر تکمیل شدہ فریضوں میں سے ہی ایک ہے جو اپنے اندر کسی بھی خطے کے قومی جمہوری انقلاب کے تمام غیر تکمیل شدہ فرائض کا مجتمع شدہ اظہار بن جاتا ہے اور تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جس نظام نے تاریخی طور پر ان مسائل کو حل کرنا تھا اسی نظام کا زوال ان مسائل کے حل کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔اسی لئے جن مسائل کو سرمایہ داری نظام نے اپنے عروج کے دور میں انقلابات کے ذریعے حل کیا تھا انہی مسائل کو سرمایہ داری کے زوال کے عہد میں حل کرنے کے لئے اس نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس کے باوجود اگر ہم قومی مسئلے کے حل کے لئے تمام صورتوں میں علیحدگی کے حق کا اطلاق آج کے پاکستان یا ہندوستان پر کریں تو کیانتائج برآمد ہوں گے؟ ہندوستان کی کل 29 میں سے 19 ریاستوں میں کم یا زیادہ شدت کے ساتھ قومی مسئلہ موجود ہے اور پھر ان ریاستوں کے اندر مزید چھوٹی یا بڑی کئی ایک رنگ، نسل، زبان یا دوسری تفریقیں موجود ہیں جو علیحدگی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاوہ تین صوبوں میں قومی محرومی شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اب ہر قوم کے حق علیحدگی پر عملدرآمد کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کو پہلے صوبائی بنیادوں پرتقسیم کر کے چار چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنائی جائیں اور پھر ان چار حصوں کو مزید ذیلی ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے چونکہ اگر سندھ کی الگ ریاست بنتی ہے تو اس کے اندر موجود سندھی اور مہاجر کی تفریق کااس اصول کے مطابق یہ تقاضا بن جائیگا کہ ان کی بھی الگ الگ ریاستیں ہوں۔اسی طرح ہر صوبے میں اپنی ذیلی تقسیمیں ہیں جو اس تقسیم در تقسیم کے عمل کو مزید آگے لے جانے کا باعث بنتی ہیں ۔
ہندوستان میں بھی اس اصول پر عملدرآمد کا مفروضہ اسی قسم کی تقسیموں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کو جنم دے گا ۔ اگر ہم بر صغیر کی تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی قتل وغارت، بربادی اور ہجرتوں کو مدنظر رکھیں تو اس مفروضے پر عملدرآمد اس سے ہزاروں گنا زیادہ خونریز اور تباہ کن اس لئے ہو گا کہ اگر سرمایہ دارانہ بنیادوں پر تقسیم کے ذریعے دو ریاستیں بنانے کے لئے 1947 میں 27 لاکھ غریب لوگوں کا خون بہایا گیا اور مزید کروڑوں لوگوں کو ہجرت نے اجاڑ دیا تھا تو آج کیسے کوئی پر امن تقسیم اس نظام کے ہوتے ہوئے ممکن ہے؟ یہ آگ اور خون سے لبریز ایک ہولناک جہنم زار کا راستہ ہے نہ کہ آزادی کا۔لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کی نا جائز اور گماشتہ سامراجی ریاستوں کے جبر اور استحصال پر مبنی موجودہ ڈھانچوں کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے اور ہر قسم کا استحصال و ظلم برداشت کیا جائے۔ یہ درست ہے کہ یہ رجعتی سرمایہ دارانہ ریاستیں مختلف محکوم اقوام کے لئے اذیت ناک مشقتی کیمپ بن چکے ہیں۔ ان ریاستوں کا وجود ہی وحشیانہ طبقاتی و قومی جبر و استحصال پر قائم ہے۔ پھرہر قومی جبر بھی اپنی بنیاد میں طبقاتی ہے چونکہ ہر مظلوم قومیت کا حکمران طبقہ استحصالی ریاست کا گماشتہ ہونے کے ساتھ اپنی قوم کے محنت کشوں کا براہ راست استحصالی بھی ہے۔اس بنیاد پر ہر قومی جدوجہد کو طبقاتی اور بین الاقوامی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے اس سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کر کے ہی ہر محکوم قوم کے محنت کشوں کا تمام وسائل پر جمہوری کنٹرول قائم کیا جا سکتا ہے جو ہر قسم کے استحصال، نابرابری اور ظلم و جبر کے خاتمے کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔

مسلح جدوجہد
جہاں تک قومی آزادی کی جدوجہدوں میں مسلح جدوجہد کے طریقہ کا ر کا تعلق ہے مارکسزم کی سائنس بنے بنائے فارمولوں کے اطلاق کے بر عکس ہر سوال اور مظہر کو اس کے اپنے تمام ٹھوس مواد، تاریخی حقائق اور خصوصیات کے تجزئیے کے ذریعے اس کے حوالے سے ایک موقف اپنانے کا طریقہ کار پیش کرتی ہے۔ محنت کشوں، محکوم اور مظلوم عوام کے استحصال، ظلم و جبر اور غلامی کے خلاف نفرت کسی بھی طریقے سے اپنا اظہار کر سکتی ہے۔مسلح جدوجہد کا طریقہ جہاں کسی بھی مظلوم و محکوم عوام کے وحشیانہ استحصال کے خلاف شدید نفرت سے جنم لیتا ہے وہیں اس طریقہ کا رکی اپنی مخصوص کمزوریاں بھی ہیں جن کو سامنے لانا مارکسیوں کا بنیادی فریضہ ہے۔ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی قومی آزادی کی تحریک کی حمایت کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے حصول کے لئے اپنائے جانیوالے ہر قسم کے مہم جوئیانہ، رجعتی اور ردانقلابی طریقوں کی بھی لازمی حمایت کی جائے اور نہ ہی کسی غلط طریقہ کارپر تنقید کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم اس تحریک کے مخالف ہو گئے ہیں۔ ہر مسلح جدوجہد جو محنت کشوں اور عوام کی اکثریت کی جدوجہد کے تابع اور کنٹرول میں نہ ہو وہ اپنی مسلح کاروائیوں کے ذریعے محنت کشوں اور عوام کی اکژیت کو اس جدوجہد سے الگ کرنے کا باعث بنتی ہے اور کوئی بھی ایسی جدوجہد جس کی حمایت میں اس طبقے کی اکثریت شامل نہ ہو جس کی آزادی اور نجات کے لئے یہ جدوجہد کی جارہی ہے تو ایسی ہر جدوجہد چند سو یا ہزار متحرک لوگوں تک محدود ہو کر گروہی لڑائی بن جاتی ہے۔ دوسرا اہم عنصر یہ ہے کہ عوامی جدوجہد سے الگ ہو کر کی جانیوالی مسلح کاروائی ہمیشہ ریاست کو مضبوط کرتی ہے اور ریاست کے وحشیانہ جبر کو شدت سے لاگو کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم نقطہ یہ ہے جس کی وضا حت مارکس نے بہت عرصہ پہلے کی تھی کہ’’ محنت کش طبقے کی نجات صرف اور صرف محنت کشوں کی اپنی اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ممکن ہے۔‘‘ اس لئے اگر ہم کسی بھی خطے کے مظلوم و محکوم عوام اور محنت کشوں کی نجات کے لئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں جدوجہد کا وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کے ذریعے ان محنت کشوں اور عوام کی اکثریت کی اس جدوجہد میں شمولیت یقینی بن سکے۔ اگر کسی خطے میں مسلح جدوجہد عوام کی اکژیت کو ان مسلح کاروائیوں سے کنارہ کشی کی جانب لے جاتی ہے تو ایسی جدوجہد انقلابی کی بجائے ردِانقلابی کردار کی حامل ہوجا تی ہے۔اس کے ساتھ ہی اس مسلح جدوجہدمیں شامل آزادی پسنداپنی تمام تر دیانت داری کے باوجود عوام کے نجات دہندہ بننے کی بجائے ان پر مزید ریاستی جبر کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری جانب جن محکوم خطوں میں مختلف سامراجی طاقتیں اپنے مقاصد اور لوٹ کے لئے مداخلت کے راستے تلاش کر رہی ہوتی ہیں ان خطوں میں مسلح کاروائیوں پر کسی ایک یا دوسری سامراجی ریاست کا آلہ کار ہونے کا الزام لگانا حکمرانوں کے لئے نسبتاً آسان ہوجاتا ہے جس کے ذریعے ایسی جدوجہدوں کو آسانی سے بدنام کر کے عوام اور محنت کشوں کو ان سے دور کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ 90 کی دہائی میں کشمیر کی مسلح تحریک میں ہمیں اسی قسم کی صورتحال نظر آئی جہاں ایک حقیقی عوامی تحریک انفرادی دہشت گردی کا راستہ اختیار کرنے کے باعث نہ صرف عوامی حمایت سے مکمل طور پر محروم ہو گئی بلکہ پاکستانی ریاست اور خفیہ اداروں کی پراکسی بن گئی اور پھر مذہبی دہشت گردی کی فرقہ وارانہ لڑائیوں کا شکار ہو کر مکمل طور پر برباد ہو گئی ۔ ایک لاکھ سے زائد انسانوں کی جانی قربانی اور دیگر لاکھوں لوگوں کی ہجرت، ہزاروں خواتین کی عصمت دری جیسی بے پناہ قربانیوں کے باوجود اس تحریک کو انفرادی دہشت گردی یا مسلح جدوجہد کے غلط طریقہ کار کے باعث پاکستانی ریاست کی پراکسی ہونے کے الزام سے داغدار ہونا پڑا ۔
ہم بلوچستان کی موجودہ کیفیت کا اگر جائزہ لیں تو ہمیں اسی قسم کی صورتحال نظر آتی ہے۔ بلوچستان کے آزادی پسند نوجوانوں کی اپنے خطے کی سامراجی لوٹ مار سے نفرت انتہائی فطری اور درست ہے۔ لیکن اس لوٹ مار کے خلاف جدوجہد کا جو راستہ اختیار کیا گیا ہے اگر اس کی خامیوں اور کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا تو تحریک آگے نہیں بڑھ پائے گی۔ جس طرح کوئی بھی باشعور انقلابی مظلوم و محکوم فلسطینیوں کی مسلح کاروائیوں کو مکمل طور پر غلط نہیں کہہ سکتا جو جارح صہیونی ریاست کے وحشیانہ جبر کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اسی طرح بلوچستان کی تحریک آزادی میں موجود مسلح جدوجہد کو غلط قرار دے کر یکسر رد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کوئی بھی باشعور انقلابی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اسرائیلی ریاست کے خلاف فلسطینی محکوموں کی جدوجہد کا یہی واحد اور درست طریقہ کار ہے۔ فلسطینی مسلح کاروائی کرنے والوں کی ہر کاروائی اسرائیلی ریاست کے بھیانک جبر کا جواز فراہم کرتی ہے اور دوسری جانب اسرائیل کے سماج میں موجود طبقاتی تقسیم کو عارضی طور پر کند کرنے کا باعث بنتی ہے۔یہ درست ہے کہ فلسطینی نوجوان اپنے خطے پر بیرونی جبر کے خلاف نفرت میں فطری طورپر درست ہیں لیکن اس نفرت کا اظہارجس طریقے سے کیا جاتا ہے وہ فلسطین پر قابض ریاست کو کمزور کرنے کی بجائے مضبوط کرنے کا باعث بنتا ہے۔
اگر فلسطین کے انقلابی نوجوان اور محنت کش حکمرانوں کی پیدا کردہ یہودی عرب تقسیم کو ختم کرنے کے لئے ایک طبقاتی موقف اپناتے ہیں تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ جس اسرائیلی ریاست نے فلسطین کی آزادی غصب کی ہوئی ہے وہی ریاست اور حکمران پہلے اسرائیل کے اندر موجود یہودی محنت کش طبقے اور عوام پر ایک طبقاتی جبر بھی روا رکھتے ہیں۔ ایک طبقاتی پالیسی اور پروگرام یہودی عرب تقسیم کو ختم کرتے ہوئے اسرائیل اور فلسطین کے عوام اور محنت کشوں کو ان کی دشمن اسرائیلی ریاست اور حکمران طبقے کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر انقلابی طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیلی ریاست کو پاش پاش کیے بغیر فلسطین کو آزادی نہیں مل سکتی لیکن اسرائیلی ریاست کے خلاف باہر سے ہر مسلح حملہ اس کو کمزور کرنے کے بجائے اس کو مضبوط کرتا ہے۔ اسرائیلی ریاست کو طبقاتی بنیادوں پر پاش پاش کیا جا سکتا ہے جو قومی کی بجائے طبقاتی اور بین الاقوامی بنیادوں پر ممکن ہے۔اسی طرح پاکستان کی رجعتی ریاست کو توڑے بغیر کسی محکوم قوم کو آزادی نہیں مل سکتی لیکن اس ریاست کو توڑنے کے لئے بھی مختلف قومیتوں کے محنت کشوں، نوجوانوں اورعوام کے ایک انقلابی اور طبقاتی اتحاد کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی انقلابی جدوجہدکو سب سے پہلے بلوچستان کے اندر ایک طبقاتی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ بلو چستان کے حریت پسندعوام ہر دور میں پاکستانی ریاست کے خلاف درخشاں جدوجہد کی میراث کے امین ہیں لیکن ہر دور میں بلوچستان کے حکمران پاکستانی ریاست کے آلہ کار کا کردار ادا کرتے آئے ہیں ۔ بلوچستان کے تمام وسائل بلوچستان کے عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں لیکن ان وسائل کی سامراجی لوٹ میں جہاں پاکستان کے حکمران کمیشن ایجنٹ ہیں وہیں بلوچستان کے حکمران ان ایجنٹوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف بلوچستان کی نہیں ہے بلکہ اس وقت نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وسائل کی بھی اسی طرح سامراجی لوٹ کے کئی منصوبوں پر عملدرآمد کیا جارہا ہے جس میں نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حکمران بھی دلالوں کے دلال بنے ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان کے بے پناہ قدرتی وسائل کی لوٹ مار کے لئے بڑھتی ہوئی چینی سامراج کی سرمایہ کاری نہ صرف خطے کے عام لوگوں کی محرومیوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے بلکہ مختلف سامراجی طاقتوں کی مداخلت اور آنیوالے وقتوں میں نئے تصادموں کو جنم دے گی جو اس قدرتی دولت سے مالامال خطے کے باسیوں کی مزید خونریزی اور بربادی کا موجب ہو گی ۔ یہ درست ہے کہ کشمیر اور بلوچستان سمیت دیگر ان جیسے خطوں میں طبقاتی استحصال کے ساتھ ساتھ شدید قومی جبر بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن اس تمام قومی و طبقاتی جبر کی بنیاد اس سرمایہ دارانہ نظام پر قائم ہے ۔ سامراجی لوٹ مار اور استحصال میں پاکستان کے حکمران طبقے کے ساتھ ساتھ ان خطوں کے حکمران بھی مکمل طور پر شریک ہیں۔استحصال اگر ہو رہا ہے تو ہر خطے کے محنت کشوں اور عوام کا ۔ اگر تمام قومیتوں کے حکمران سرمایہ دارانہ استحصال کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے متحد ہیں تو تمام قومیتوں کے محنت کشوں اور عوام کو بھی اس استحصال کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر متحد ہونا پڑیگا اور ہر ایسے عمل کے خلاف بے رحم جدوجہد کرنا ہو گی جو محنت کشوں کو قومیت، رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا باعث بنے۔ ہر قسم کے تعصب، تفریق اور نا برابری کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہر تقسیم محنت کشوں کو کمزور اور حکمرانوں کو مضبوط کرنے کا باعث بنتی ہے۔ سرمایہ دارانہ سماجوں میں نسل، رنگ، قوم، مذہب، زبان، علاقائی اور فرقہ وارانہ تقسیموں سمیت کئی قسم کی تفریقیں موجود ہیں لیکن ان تقسیموں کا کردار رجعتی اور رد انقلابی اس لئے ہے کہ ایسی ہر تفریق کو ابھار کر ایک طرف محنت کشوں کو تقسیم کر کے کمزور کیا جاتا ہے تو دوسری جانب سماج کی طبقاتی تقسیم کو دبانے اور چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جبکہ سماج کی طبقاتی تقسیم واحد ایسی تقسیم ہے جو حاکم اور محکوم، ظالم اور مظلوم، استحصال کرنے والے اور استحصال کا شکار ہونے والے کے فرق کو واضح کرتے ہوئے حکمرانوں اور ان کے استحصالی نظام کے خاتمے کی جدوجہد میں تمام محکوموں کو یکجا اور متحد کرتی ہے۔
ہر حکمران یا ان کا آلہ کا ر خواہ اس کا تعلق کسی بھی قوم سے ہو بے شک ہماری اپنی قوم سے ہی کیوں نہ ہو وہ ہمارا دشمن ہے۔ اور ہر قوم کے محنت کش اور مظلوم ومحکوم عوام ہمارے انقلابی ساتھی ہیں ۔ہم مارکسزم کے پرولتاری بین الاقوامیت کے نظریات کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کو استوار کرتے ہوئے قومی مسئلے پر یہ موقف پیش کرتے ہیں کہ ہم تمام مظلوم و محکوم اقوام کے محنت کشوں اور عوام کے حقِ خودارادیت بشمولِ حقِ علیحدگی کی مکمل حمایت اور دفاع کرتے ہوئے ہر قوم اور ہر ملک کے محنت کشوں اور عوام کے طبقاتی اتحاد اور جڑت کے لئے اور ہر ایسے تعصب جومحنت کشوں کی تقسیم کا باعث بنے کے خلاف جدوجہد کو عالمی سوشلسٹ انقلاب کے فتح مند ہونے تک جاری رکھنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔
مارکسزم کے درست نظریات سے انحراف نے جہاں سوویت یونین کے انقلاب کو منہدم کیا وہیں قومی سوشلزم جیسے غلط نظریات نے چین، ویتنام اور کیوبا سمیت بے شمار ممالک میں محنت کشوں اور عوام کی انقلابی فتوحات کو شکستوں میں بدل دیا۔ ان تجربات نے محنت کشوں کی عظیم قربانیوں کی قیمت پر ہی سہی لیکن یہ ثابت کیا کہ سوشلزم اگر بین الاقوامیت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔ بورژوا قوم پرستی کے ساتھ ساتھ سٹالنسٹ قوم پرستی کے نظریات بھی تاریخ کے ہاتھوں مسترد ہوچکے ہیں۔ نسلِ انسانی کے پاس اس سرمایہ دارانہ جہنم سے نجات کا واحد راستہ مارکسزم کی طبقاتی بین الاقوامیت کا نظریہ ہے اور موجودہ عہد میں جب عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام زوال کا شکار ہو کر گل سڑرہا ہے محنت کشوں کے سامنے جو فریضہ ہے اسے ٹراٹسکی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے’’ تمام ریاستی سرحدیں ذرائع پیداوار کے لئے بیڑیاں ہیں۔ پرولتاریہ کا فریضہ ان سرحدوں کو مضبوط کرنا یعنی اس کیفیت کو برقرار رکھنا نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس ان سرحدوں کے انقلابی خاتمے کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے سوشلسٹ فیڈریشن کا قیام ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *