: درج ذیل قرارداد آئی ایس ایل کی تیسری کانگریس میں منظور کی گئی تھی اور یہاں پورے متن کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے
برطانوی نوآبادیاتی بالادستی کے تحت برصغیر میں حکمرانی دو طریقوں سے قائم تھی۔ایک طرف براہ راست حکومت تھی جو برٹش انڈیا کے علاقوں پر نافذ تھی، اور دوسری طرف بالواسطہ حکمرانی تھی جو 565 شاہی ریاستوں اور جاگیروں پر قائم کی گئی تھی۔ جموں کشمیر انہی شاہی ریاستوں میں سے ایک تھا۔ یہ 1846کے معاہدہ امرتسر کے ذریعے ایک واحد سیاسی اکائی کے طور پر قائم ہوئی،جس کے تحت برطانوی سامراج نے وادیِ کشمیر کا کنٹرول ڈوگروں کو منتقل کیا اور ان علاقوں پر ڈوگرہ بالادستی کو تسلیم کیا،جنہیں وہ پہلے فتح کر چکے تھے یا بعد میں طاقت کے ذریعے اپنے قبضے میں لائے۔ یوں ایک ایسی حکمرانی کا آغاز ہوا جو خطے کی متنوع آبادیوں کی رضامندی کے بغیر قائم ہوئی۔ ڈوگرا حکمرانی کا جموں، لداخ، پونچھ اور بعد ازاں گلگت بلتستان کے نام سے انتظام کیے جانے والے علاقوں تک پھیلاؤ کسی رضاکارانہ اتحاد کا نتیجہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ فوجی فتوحات، جبری قبضے اور دہائیوں تک جاری رہنے والی برطانوی سرپرستی کے ذریعے ہوا، جس کے نتیجے میں ایک بے حد غیرہموار اور متنازع سیاسی تشکیل وجود میں آئی۔
1947 میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والی سامراجی تقسیم کے وقت دیگر ریاستوں کو آبادیوں کی رائے یا رضامندی معلوم کیے بغیر پاکستان اور بھارت میں ضم کیا گیا۔ تاہم جموں کشمیر کے مختلف خطوں میں ظالمانہ اور آمرانہ حکمرانی کے خلاف مسلح اور عوامی بغاوتوں،اور ساتھ ہی پاکستان اور بھارت کی توسیع پسندانہ خواہشات کے باعث پہلی پاکستان بھارت جنگ کے نتیجے میں یہ خطہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ آج تک جموں کشمیر کے باشندوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
فی الوقت پاکستان اور بھارت جموں کشمیر کے مختلف حصوں پر قابض ہیں اور پورے خطے پر دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ چین بھی بعض علاقوں پر قابض ہے اور مزید حصوں کا دعویٰ کرتا ہے۔ عالمی سطح پر جموں کشمیر کے مسئلے کو صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی تنازع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں دونوں ریاستوں نے بارہا اس مسئلے کو استعمال کر کے مذہبی قوم پرستانہ جنگی جنون بھڑکایا، عوامی تحریکوں کو دبایا اور اپنی محنت کش آبادیوں کی توجہ ان کے حقیقی مسائل اور اپنے ہی سماجوں میں دہکتے ہوئے طبقاتی تضادات سے ہٹانے کی کوشش کی۔
جموں کشمیر کا تنازع محض زمین کا جھگڑا نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا گہرا سیاسی بحران ہے جس کی جڑیں اس سابقہ شاہی ریاست میں موجود مختلف اقوام اور آبادیوں کے نامکمل سیاسی مستقبل، ان کے جداگانہ تاریخی تجربات، شناختوں اور سیاسی امنگوں میں پیوست ہیں۔ ان میں وادی کشمیر، پونچھ کے کچھ حصوں اور پاکستانی زیر قبضہ خطوں میں موجود کشمیری سیاسی تشکیلیں شامل ہیں، جبکہ جموں، لداخ اور گلگت بلتستان کی جداگانہ علاقائی و ثقافتی شناختیں بھی اپنی نوعیت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ان کا کشمیری نیشنل ازم کے ساتھ تعلق نہ صرف یہ کہ یکساں نہیں ہے، بلکہ ہم شناختی شکل میں بھی نہیں ہے۔
اسی لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام قابض افواج جموں کشمیر سے مکمل طور پر واپس بلائی جائیں اور سابقہ شاہی ریاست کے تمام عوام کے بغیر کسی شرط کے اس حق کو تسلیم کیا جائے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں، چاہے وہ علیحدگی کا حق ہو یا الحاق و اتحاد کا۔ ہم سجھتے ہیں کہ تمام سیاسی اور علاقائی اکائیوں کی رضاکارانہ فیڈریشن پر مبنی،ایک آزاد، خودمختار، سیکولر اور سوشلسٹ جموں کشمیر ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس خطے کی اقوام کو غلامی اور استحصال سے نجات دلا سکتا ہے۔