مشال جو مارا گیا، مگر مرا نہیں

image mashal khan

مشال خان کا قتل محض مذہبی جنونیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے بوسیدہ نظام کا شاخسانہ تھا جہاں شعور اور سوال کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ نو برس گزرنے کے باوجود مشال کا لہو اس استحصالی ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان ہے، جس کا واحد حل ایک منظم انقلابی جدوجہد میں ہے۔

Against the Fragmentation of Bhagat Singh’s Legacy

Bhagat Singh might not have been able to fit himself into neat, enclosed political categories; in his writings, he certainly indicated what he stood for, a revolutionary socialist politics. While the archive is necessarily incomplete, it is not arbitrary, and historical interpretation does not require a finished record; it rarely encounters one.

این ایس ایف کی سامراجی جارحیت کے خلاف ملک و بیرونِ ملک متحرک مہم

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) اور پیپلز ریولوشنری فرنٹ (PRF) پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر اور دنیا بھر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فلسطین اور ایران پر جاری سامراجی جارحیت کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی اور عالمی سطح پر محنت کشوں کی مشترکہ جدوجہد کو فروغ دینا ہے۔

سامراجی جارحیت کے سائے میں محنت کش خواتین کا عالمی دن

محنت کش خواتین کی آزادی کا سوال محض قانونی اصلاحات یا نمائشی نعروں سے حل نہیں ہو سکتا۔ جنگوں، معاشی استحصال، صنفی تشدد اور گھریلو غیر ادا شدہ محنت جیسے مسائل دراصل اسی طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں جو چند لوگوں کے منافع کو اکثریت کی زندگیوں پر ترجیح دیتا ہے۔ جب تک یہ نظام برقرار ہے، عورت کی محنت اور اس کی زندگی دونوں استحصال کا شکار رہیں گی۔ اس لیے محنت کش خواتین کے عالمی دن کی اصل روح صرف خراجِ تحسین پیش کرنے میں نہیں بلکہ اس اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں ہے جو ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے کی جا رہی ہے جہاں جنگ، استحصال اور صنفی جبر کی گنجائش باقی نہ رہے