ہجوم، ہراسانی اور خاموشی: مشال سے فہمیدہ تک
مشال خان سے فہمیدہ لغاری تک کے واقعات اسی جابرانہ نظام کا تسلسل ہیں جو اختلافِ رائے کو کچلتا ہے۔ اس جمود کو توڑنے اور طلبہ کی اجتماعی آواز کو قوت دینے کا واحد راستہ طلبہ یونین کی بحالی ہے۔
مشال خان سے فہمیدہ لغاری تک کے واقعات اسی جابرانہ نظام کا تسلسل ہیں جو اختلافِ رائے کو کچلتا ہے۔ اس جمود کو توڑنے اور طلبہ کی اجتماعی آواز کو قوت دینے کا واحد راستہ طلبہ یونین کی بحالی ہے۔
محنت کش خواتین کی آزادی کا سوال محض قانونی اصلاحات یا نمائشی نعروں سے حل نہیں ہو سکتا۔ جنگوں، معاشی استحصال، صنفی تشدد اور گھریلو غیر ادا شدہ محنت جیسے مسائل دراصل اسی طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں جو چند لوگوں کے منافع کو اکثریت کی زندگیوں پر ترجیح دیتا ہے۔ جب تک یہ نظام برقرار ہے، عورت کی محنت اور اس کی زندگی دونوں استحصال کا شکار رہیں گی۔ اس لیے محنت کش خواتین کے عالمی دن کی اصل روح صرف خراجِ تحسین پیش کرنے میں نہیں بلکہ اس اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں ہے جو ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے کی جا رہی ہے جہاں جنگ، استحصال اور صنفی جبر کی گنجائش باقی نہ رہے
محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں تقریبات اور فکری سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں راولاکوٹ، ہجیرہ، راولپنڈی اور لاہور میں سیمینار، سٹڈی سرکلز اور افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جن میں خواتین کے حقوق، طبقاتی استحصال اور موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
موجودہ عہد کے تمام تضادات واضح کرتے ہیں کہ خواتین کے مسائل کو سماج کے وسیع تر معاشی اور سیاسی ڈھانچے سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ صنفی جبر، معاشی استحصال، ماحولیاتی بحران اور سیاسی جبر دراصل ایک ہی نظام کے مختلف پہلو ہیں۔