جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے 11 فروری کو مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کے موقع پر جموں کشمیر کے دونوں اطراف، پاکستان کے بڑے شہروں اور عالمی سطح پر مختلف ممالک میں جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ اس دن کو نوجوانوں، محنت کشوں اور آزادی پسند حلقوں نے مقبول بٹ شہید کے انقلابی نظریات کی تجدید عہد کے طور پر منایا۔
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تمام بڑے شہری مراکز، جن میں مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، پلندری، کوٹلی، میرپور، حویلی، ہجیرہ اور تراڑکھل شامل ہیں، جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر ترقی پسند تنظیموں نے مشترکہ اور کئی جگہوں پر الگ ریلیاں نکالیں جن میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔ شرکا نے مقبول بٹ کے نظریاتی ورثے کی بحالی، قومی خودمختاری کی جدوجہد اور ریاستی جبر کے خاتمے کے مطالبات بلند کیے۔
پاکستان کے شہروں راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں حکومتی قدغنوں کے باوجود طلبہ اور شہریوں نے محدود مگر علامتی پروگرام منعقد کیے۔ شرکا نے واضح کیا کہ نظریات پر پابندیاں تحریکوں کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ حکمرانوں کی غیر جمہوری پالیسیوں کو مزید بے نقاب کرتی ہیں۔
بیرون ملک یورپ، شمالی امریکہ اور برطانیہ میں بھی جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں اور ہمدردوں نے احتجاجی مارچ کیے۔ لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے آزادی پسند جماعتوں نے مظاہرہ کیا اور بھارتی ریاست سے مقبول بٹ شہید کے جسد خاکی کی واپسی سمیت دیگر مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی۔
دنیا بھر میں آن لائن سیمینارز، ویبینارز اور مباحثوں میں نوجوانوں نے مقبول بٹ شہید کے سیاسی افکار، قومی آزادی کی جدید تشریحات اور ایک متحد، سیکولر اور عوامی جموں کشمیر کے تصور پر گفتگو کی۔ جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے واضح کیا کہ شہید کا نظریہ نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے آج بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تقریبات میں مقبول بٹ شہید کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی تہاڑ جیل میں دفن ان کے جسد خاکی کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے جموں کشمیر کے تمام حصوں میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے شہریوں پر بیرون ملک سفر کی غیر اعلانیہ پابندی کے خاتمے اور اسلام آباد و راولپنڈی میں کشمیری طلبہ تنظیموں کے پروگراموں پر ریاستی قدغنوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی دوہرایا۔
این ایس ایف نے مخصوص تھانوں میں نوجوانوں کو طلب کر کے وفاداری کے بیان حلفی لینے کے جاری عمل کی شدید مذمت کی اور اسے قومی شناخت اور سیاسی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ مقبول بٹ شہید جموں کشمیر کی قومی آزادی کی جدید انقلابی تحریک کے بنیاد گزار سمجھے جاتے ہیں۔ 18 فروری 1938 کو تریہگام میں پیدا ہونے والے مقبول بٹ نے سیاسی، سفارتی اور مسلح مزاحمت کو مربوط سمت دی۔ انہیں پاکستان اور بھارت دونوں کی جیلوں میں بدترین تشدد اور قید کا سامنا کرنا پڑا۔ 11 فروری 1984 کو انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر جیل ہی میں دفن کیا گیا، اور اسی دن سے وہ قومی مزاحمت کی علامت کے طور پر زندہ ہیں۔
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے اس موقع پر اعلان کیا کہ نوجوان نسل مقبول بٹ شہید کے نظریے کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنائے گی اور ایک خود مختار، عوامی اور متحدہ جموں کشمیر کے خواب کو پورا کرنے تک یہ تحریک جاری رہے گی۔















