صائمہ بتول
حالیہ امریکی اور اسرائیلی سامراجی طاقتوں کی طرف سے ایران پر سامراجی جارحیت کے دوران لاکھوں لوگ اس خونی بربریت اور وحشت کی ہولناکیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ شہر مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملہ ہوا جس میں تقریباً 160 افراد مارے گئے، جن میں اکثریت اسکول میں پڑھنے والی بچیوں کی تھی۔ عالمی میڈیا پر چلنے والی یہ خبر ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کرتی ہے کہ جنگیں صنفی تفریق سے بالاتر ہوتی ہیں اور ان کی سب سے بڑی قیمت اکثر عام انسان، بالخصوص خواتین اور بچے ادا کرتے ہیں۔
آج دنیا بھر میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کی سرگرمیوں کے دوران ایران میں اسکول کی بچیوں کے قتل کی خبر خاص طور پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین اور بچے آج بھی جنگ اور تشدد کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتے ہیں۔ 8 مارچ کو منایا جانے والا محنت کش خواتین کا عالمی دن محض ایک علامتی موقع نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی جدوجہد کی یادگار ہے۔ یہ دن دراصل ان مزدور تحریکوں کی پیداوار ہے جو بیسویں صدی کے آغاز میں خواتین نے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے منظم کی تھیں۔
تاہم سرمایہ داری نے وقت کے ساتھ اس دن کی اصل روح کو بڑی حد تک مسخ کر دیا ہے۔ محنت کش خواتین کے عالمی دن کو محض “خواتین کے دن” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی انقلابی اور طبقاتی بنیاد پس منظر میں دھکیل دی جاتی ہے۔ بڑی کارپوریشنیں اور سرمایہ دار ادارے اس دن کو مارکیٹنگ مہمات، رعایتی سیلز اور نمائشی پیغامات کے ذریعے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح خواتین کی حقیقی جدوجہد اور محنت کش عورتوں کے مسائل کو پسِ پشت ڈال کر اس دن کو ایک کارپوریٹ تماشے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
درحقیقت اس دن کی جڑیں محنت کش خواتین کی ابتدائی مزاحمتی تحریکوں میں پیوست ہیں۔ 1857ء میں نیویارک میں ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی مزدور خواتین نے کام کے غیر انسانی اوقات اور کم تنخواہوں کے خلاف احتجاج کیا۔ بعد ازاں 1905ء کے روسی انقلاب کے دوران خواتین کے کردار کے حوالے سے کئی اہم سوالات ابھر کر سامنے آئے۔ اسی عرصے میں پیٹی بورژوا طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین نے “یونین فار ایکول رائٹس” کو منظم کیا، جس میں تیزی سے خواتین کی شمولیت ہونے لگی۔ تاہم یہ تحریک بنیادی طور پر خواتین کو ووٹ کا حق دلانے کے مطالبے تک محدود رہی۔
بعد ازاں جب اس تحریک میں محنت کش خواتین زیادہ متحرک ہونے لگیں اور انہوں نے کم از کم اجرت مقرر کرنے کا مطالبہ اٹھایا تو اس تحریک کی قیادت کرنے والی خواتین نے، اپنی ملازماؤں کی تنخواہیں بڑھنے کے خوف سے، محنت کش خواتین کو منظم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس بالشویکوں نے عورتوں کی مساوی اجرت اور حقوق کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھایا۔
1908ء میں 15 ہزار خواتین نے نیویارک کی سڑکوں پر مارچ کیا، جہاں انہوں نے کام کے اوقات کار میں کمی، زیادہ اجرت اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ 1909ء میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے اس دن کو یومِ خواتین کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے ہی سال 1910ء میں ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں سوشلسٹ خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جہاں جرمن رہنما کلارا زیٹکن نے تجویز دی کہ خواتین کے حقوق کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کو 17 ممالک کی 100 سے زائد خواتین نے متفقہ طور پر حمایت دی۔
ابتدا میں یہ دن 19 مارچ کو منایا جاتا رہا، لیکن بعد میں 8 مارچ کی تاریخ مختص کر دی گئی۔ ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں محنت کش خواتین اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی نہ کسی شکل میں مروجہ نظام کی غلاظتوں کو چیلنج کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کے مسائل اسی طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں اور اس کے خاتمے تک یہ بڑھتے ہی رہیں گے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں صرف 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کے باعث وہ زندگی کے مختلف مراحل پر تفریق، تشدد اور محرومی کے خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔ اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہر سال 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد عصمت دری کی کوشش کے واقعات پولیس میں درج کیے جاتے ہیں، جبکہ تقریباً 75 فیصد ممالک میں قوانین کے تحت کم عمر لڑکیوں کی جبری شادی اب بھی ممکن ہے۔
اسی طرح 44 فیصد ممالک میں قانون خواتین کو مردوں کے مساوی قدر کے کام کی مساوی اجرت ملنے کی ضمانت نہیں دیتا، جس کے نتیجے میں بیشتر خواتین مردوں کے برابر کام کرنے کے باوجود کم معاوضہ پاتی ہیں۔ بڑھتا ہوا ڈیجیٹل تشدد، ڈیپ فیک ویڈیوز اور سائبر وارداتیں بھی خواتین کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔
اجرت سے مراد وہ قیمت ہے جو کسی سرمایہ دار کی جانب سے مزدور کو اس کی قوتِ محنت خریدنے کے عوض ادا کی جاتی ہے، اور کسی بھی دوسری شے کی طرح قوتِ محنت کی قیمت کا تعین بھی اس کے پیدا کرنے میں لگنے والے سماجی طور پر ضروری وقت سے ہوتا ہے۔ اسی لیے اجرت عموماً اتنی رکھی جاتی ہے کہ مزدور اپنی زندگی برقرار رکھ سکے اور اگلی نسل پیدا کرنے کے قابل رہے۔ مثال کے طور پر اگر مزدور کی ایک دن کی اجرت 500 روپے ہو تو وہ یہ رقم محض 4 گھنٹوں کے کام میں پیدا کر لیتا ہے، مگر سرمایہ دار اس سے 8 یا 10 گھنٹے کام کرواتا ہے، اور ان اضافی گھنٹوں میں مزدور جو قیمت پیدا کرتا ہے وہ زائد قدر کہلاتی ہے۔
:کارل مارکس کے مطابق
’’قوت محنت کی قدر کیا ہے؟ ہر ایک شے یا جنس کی طرح اس کی قدر کا تعین اس کی پیداوار کے لیے درکار محنت کی مقدار سے کیا جاتا ہے۔ ایک شخص کی قوت محنت اس کے زندہ وجود کے ساتھ لازم و ملزوم ہے کہ وہ مخصوص مقدار میں ضروریاتِ زندگی صرف کرے۔ لیکن کسی مشین کی طرح وہ فرد بھی گھس کر بیکار ہو جائے گا اور اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو لینی ہو گی۔‘‘
سرمایہ دارانہ نظام نے ایسے قوانین اور سماجی و ثقافتی ڈھانچے قائم کر رکھے ہیں جن کے تحت عورت کی گھریلو مشقت کو معاشی قدر نہیں دی جاتی۔ گھر میں موجود خاتون کپڑے دھونا، کھانا بنانا، گھر کی صفائی ستھرائی کرنا، بچوں کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی خدمت جیسے بے شمار کام انجام دیتی ہے۔ یہ تمام کام درحقیقت معاشی قدر پیدا کرتے ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے مزدور کی اگلی دن کی محنت ممکن بنتی ہے اور نئی نسل کی پرورش ہوتی ہے، مگر اس محنت کو کسی باقاعدہ اجرت یا معاشی حساب کتاب میں شامل نہیں کیا جاتا
گھریلو مشقت کی یہی غیر مرئی حیثیت عورتوں کی مجموعی معاشی اور سماجی پوزیشن کو کمزور رکھتی ہے۔ جب خواتین روزگار کے لیے گھروں سے باہر نکلتی ہیں تو انہیں عموماً محدود، غیر محفوظ اور کم اجرت والی ملازمتوں تک ہی محدود کر دیا جاتا ہے۔ کم تعلیم یافتہ خواتین کے لیے ریسپشنسٹ یا کال سینٹر ایجنٹ جیسی نوکریاں بھی بہت کم دستیاب ہوتی ہیں، جبکہ فیکٹریوں میں انہیں بڑی ذمہ داریوں یا اعلیٰ عہدوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اس عدم مساوات کو اکثر یہ کہہ کر جائز قرار دیا جاتا ہے کہ “آپ نے کون سا گھر چلانا ہے”، گویا عورت کی آمدنی محض اضافی ہے نہ کہ ضروری۔
اسی طرح چند کامیاب خواتین یا نام نہاد “گرل باس” کی کہانیاں پیش کر کے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی آگے نہیں بڑھ پا رہا تو اس کی وجہ مواقع کی کمی نہیں بلکہ اس کی اپنی محنت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چند خواتین کی غیر معمولی کامیابی اس وسیع تر نظامی عدم مساوات کو تبدیل نہیں کرتی جس کا سامنا لاکھوں محنت کش خواتین روزانہ کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ اسی لیے مارکسی نقطۂ نظر سے برابری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ چند خواتین کارپوریشنوں کے بورڈ کی ممبرز یا بڑی کمپنیوں کی سی ای او بن جائیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ معاشی اور سماجی ڈھانچے تبدیل کیے جائیں جو اکثریت کی خواتین کو استحصال، کم اجرت اور عدم تحفظ کی زندگی میں قید رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کی تحریکیں جمود کا شکار ہیں۔ پوری دنیا میں خواتین مختلف شکلوں میں مزاحمت اور جدوجہد کر رہی ہیں۔2022 ء میں ایران میں 22 سالہ کرد خاتون کو ایران کی اخلاقی پولیس نے حجاب نہ کرنے کے الزام میں قتل کر دیا تھا، جس کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک اٹھی۔پڑتا ہے اور وہ مسلسل عدم تحفظ کا شکار رہتی ہیں۔
اسی طرح 2024ء میں بھارت میں ڈاکٹر ممیتا کے ریپ کے بعد قتل کے واقعے کے خلاف پورے بھارت میں بڑے احتجاج ہوئے۔ پاکستان میں بلوچ مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے چلنے والی تحریکوں میں خواتین کی شمولیت اور ان تحریکوں کو منظم کرتی ہوئی خواتین نے ریاست کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ ماہرنگ بلوچ کو قید ہوئے تقریباً ایک سال گزر چکا ہے۔
اس تمام صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محنت کش خواتین کی آزادی کا سوال محض قانونی اصلاحات یا نمائشی نعروں سے حل نہیں ہو سکتا۔ جنگوں، معاشی استحصال، صنفی تشدد اور گھریلو غیر ادا شدہ محنت جیسے مسائل دراصل اسی طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں جو چند لوگوں کے منافع کو اکثریت کی زندگیوں پر ترجیح دیتا ہے۔ جب تک یہ نظام برقرار ہے، عورت کی محنت اور اس کی زندگی دونوں استحصال کا شکار رہیں گی۔ اس لیے محنت کش خواتین کے عالمی دن کی اصل روح صرف خراجِ تحسین پیش کرنے میں نہیں بلکہ اس اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں ہے جو ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے کی جا رہی ہے جہاں جنگ، استحصال اور صنفی جبر کی گنجائش باقی نہ رہے