ہجوم، ہراسانی اور خاموشی: مشال سے فہمیدہ تک

تحریر: علیزہ اسلم

13 اپریل 2017 کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں شعبہ صحافت کے تئیس سالہ طالب علم مشال خان کو توہین کے جھوٹے الزام میں مشتعل ہجوم نے نہایت بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ محض ایک نوجوان کی موت نہیں تھا، بلکہ اس دن مردان میں وہ سماجی و سیاسی ڈھانچہ بے نقاب ہوا جس میں اختلافِ رائے کو ہجوم کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ مشال خان حق کی وہ آواز تھا جس نے یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تھا، مگر اسے راستے سے ہٹانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا گیا۔

یہ سانحہ اس بنیاد پرستی کا شاخسانہ تھا جس کی جڑیں ضیاء الحق کے دور میں پیوستہ ہیں۔ ثور انقلاب کو کچلنے کے لیے سامراجی طاقتوں نے جس مذہبی انتہا پسندی کو پروان چڑھایا، اسے پاکستان میں امریکی پشت پناہی اور قانونی سرپرستی حاصل رہی۔ اسی دور میں “ملا ازم” اور نام نہاد مجاہدین کا وہ جال پھیلا یا گیا جس نے پورے معاشرتی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدت پسندی کو اس حد تک ہوا دی گئی کہ محض ایک الزام کی بنیاد پر ہجوم کو کسی کی بھی جان لینے کا لائسنس مل گیا۔

مشال خان یونیورسٹی میں طلبہ سیاست کا ایک فعال چہرہ تھا جو میرٹ کی پامالی اور انتظامی بے قاعدگیوں کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔ یونیورسٹی میں ایک ہی فرد کا کئی عہدوں پر براجمان ہونا اور غیر قانونی تعیناتیاں محض ایک ادارے کا قصہ نہیں، بلکہ یہ آج کے اس تعلیمی نظام کا عکاس ہے جہاں طلبہ یونین پر پابندی کے باعث بد نظمی اور کرپشن جڑ پکڑ چکی ہے۔ مشال نے جب اس نظام کو چیلنج کیا، تو انتظامیہ نے اپنے سیاہ کارنامے چھپانے کے لیے اسے ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں سے وابستہ طلبہ کو اس کے خلاف اس قدر اکسایا گیا کہ انہوں نے مشال کو ہاسٹل سے گھسیٹ کر نکالا اور وحشیانہ تشدد کے بعد گولی مار کر شہید کر دیا۔

مشال خان کا قتل محض چند جنونی افراد کی کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ اس ‘ہجومی انصاف’ کی بدترین شکل تھی جسے دہائیوں سے ریاست اور معاشرے نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر تحفظ فراہم کیا۔ جب تعلیمی اداروں میں دلیل کی جگہ ڈنڈا اور مکالمے کی جگہ فتویٰ لے لیتا ہے، تو وہاں ایسے ہی خوفناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ہم اکثر انفرادی سزاؤں پر توجہ مرکوز کر لیتے ہیں، مگر اس فکری کارخانے کو نظرانداز کر دیتے ہیں جہاں نفرت کی یہ فصل تیار ہوتی ہے۔

یہاں اصل مسئلہ صرف قاتلوں کی سزا نہیں، بلکہ اس ماحول کی تبدیلی ہے جو ایسے ہجوم پیدا کرتا ہے۔ اگر تمام ملزمان کو سخت سزائیں مل بھی جائیں، تب بھی وہ ڈھانچہ برقرار رہتا ہے جہاں ایک اشتعال انگیز نعرہ ہجوم کو متحرک کر دیتا ہے۔ ریاست اکثر سوشل میڈیا کے دباؤ پر چند سزائیں سنا کر وقتی طور پر غصہ تو ٹھنڈا کر دیتی ہے، مگر وہ فکری اور ادارہ جاتی اصلاحات نہیں کی جاتیں جو تشدد کے اس تسلسل کو توڑ سکیں۔ یوں سزائیں ایک علامتی عمل بن کر رہ جاتی ہیں، جو وقتی طور پر احتجاج کو تو دبا دیتی ہیں، مگر اس تسلسل کو نہیں توڑتیں جس کے تحت اسی نوعیت کے واقعات بار بار سامنے آتے رہتے ہیں۔

آج مشال کی شہادت کے برسوں بعد بھی وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ چند روز قبل محمد میڈیکل کالج میرپور خاص کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے ہراسانی اور نظام کی بے حسی سے تنگ آ کر اپنی جان دے دی۔ اسی طرح آج انتہا پسندی اس نہج پر ہے کہ تعلیمی اداروں میں “رباب” لانا بھی جرم بنا دیا گیا ہے اور موسیٰ خان جیسے طالب علموں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ طلبہ یونین کی عدم موجودگی میں مکالمے اور جمہوری اظہار کی جگہ رجعت پسندی نے لے لی ہے۔ 9 فروری 1984 کو طلبہ یونین پر لگنے والی پابندی ان تمام المیوں کی اصل جڑ ہے۔

کسی بھی معاشرے کی فکری اور سیاسی تشکیل میں طلبہ کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارے صرف ڈگریوں کی ترسیل کا انتظام نہیں بلکہ وہ جگہ ہیں جہاں شعور، سوال اور اجتماعی سمت تشکیل پاتی ہے۔ طلبہ یونین محض نمائندگی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ وہ میکانزم ہے جس کے ذریعے طاقت، اختلاف اور اجتماعی مطالبہ ایک منظم شکل اختیار کرتے ہیں۔ جب تعلیمی اداروں میں بنیاد پرستی اور تعصب داخل ہو جاتے ہیں تو طلبہ یونین کی غیر موجودگی میں مکالمہ، جمہوری عمل اور اظہار کی محدود آزادی بھی آہستہ آہستہ تحلیل ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں یہ مسلسل دیکھا گیا ہے کہ ہر حکومت انتخابی ادوار میں طلبہ یونین کی بحالی کے وعدے کرتی ہے مگر اقتدار میں آ کر اس مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔ اس خلا میں جو سیاسی غیر موجودگی پیدا ہوتی ہے وہ خالی نہیں رہتی، بلکہ اسے مختلف قسم کی تنظیمی اور غیر رسمی طاقتیں بھر دیتی ہیں جو اکثر زیادہ منظم اور زیادہ جارح ہوتی ہیں۔ اس صورتحال میں نوجوان ایک ایسے میدان میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ان کے لیے سیاست کا مطلب پہلے سے موجود طاقتوں کے ساتھ غیر متوازن تعلق بن جاتا ہے۔

اگر اس ڈھانچے کو بدلنا مقصود ہو تو طلبہ یونین کی بحالی کو ایک انتظامی اصلاح کے طور پر نہیں بلکہ طاقت کے توازن کے سوال کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اس کے بغیر تعلیمی ادارے ایسے میدان بنے رہیں گے جہاں فیصلے اوپر سے مسلط ہوتے ہیں اور نیچے صرف ردعمل رہ جاتا ہے۔ اسی غیر مساوی ترتیب میں بنیاد پرستی اور مقابلہ بازی جیسے رجحانات جڑ پکڑتے ہیں، کیونکہ اجتماعی سیاست کی جگہ انفرادی بقا کی منطق غالب آ جاتی ہے۔

مشال خان کے بعد سامنے آنے والے احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ یہ دبائی ہوئی سیاسی توانائی مکمل طور پر غائب نہیں ہوتی بلکہ مختلف شکلوں میں دوبارہ ابھرتی رہتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آوازیں دبا دی گئی ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی منظم سیاسی شکل کے بغیر بار بار بکھر کر واپس آتی ہیں۔ اس بکھری ہوئی مزاحمت کو ایک توانا سیاسی قوت میں بدلنا ہی آج کے عہد کا سب سے بڑا چیلنج ہے، تاکہ انفرادی قربانیوں کو ایک اجتماعی تحریک کا حصہ بنایا جا سکے۔

نوجوانوں کو اس نظام کی فرسودگی اور غلاظتوں کو شکست دینی ہوگی جو سوالوں کے جواب دینے کے بجائے زندگیاں چھین لیتا ہے۔ مشال خان جیسے نوجوانوں کے خون کا بدلہ ایک ایسے نظام کے قیام سے ہی ممکن ہے جہاں طلبہ سیاست کو فروغ ملے اور ہر انسان بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کر سکے۔