تحریر: ارسلان شانی
آج نو برس گزر چکے ہیں، جب 13 اپریل 2017ء کو مشال خان ہم سے چھین لیا گیا تھا۔ وقت کی یہ طوالت بظاہر ایک فاصلہ ضرور پیدا کرتی ہے، مگر سچ یہ ہے کہ اس واقعے کی بازگشت آج بھی اسی شدت کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دن ابھی گزرا ہو، جیسے وہ چیخیں ابھی فضا میں معلق ہوں، اور جیسے اس سماج کا ضمیر آج بھی اسی مقام پر کھڑا ہو جہاں ایک بے گناہ نوجوان کو ہجوم کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔
اگر ہم پاکستان جیسے ملک کی بات کریں، جہاں سرمایہ دارانہ ارتقا اپنی تاخیر زدہ اور غیر مساوی شکل میں آگے بڑھا ہے اور جہاں جدید ریاستی ڈھانچہ ابھی تک ایک مکمل اور مستحکم سماجی معاہدے کی صورت اختیار نہیں کر سکا، تو ایسے واقعات کو مکمل طور پر ایک استثنا کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس سے پہلے بھی مختلف سطحوں پر ہجوم کے تشدد اور ماب لنچنگ کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جو اسی ساختی کمزوری، ریاستی عدم موجودگی کے احساس اور سماجی بے یقینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم مشال خان کا ہجوم کے ہاتھوں قتل پھر بھی اپنی شدت اور علامتی اثر کے لحاظ سے ایک غیر معمولی واقعہ تھا، کیونکہ اس نے نہ صرف ایک فرد کی زندگی کا خاتمہ کیا بلکہ پورے ملک اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے تعلیمی اداروں میں ایک گہرا جھٹکا پیدا کیا۔
یہی وہ طالب علم تھا جس نے اپنی زندگی میں بھی سوال، مزاحمت اور اجتماعی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور اپنی موت کے بعد بھی طلبہ سیاست، اور خاص طور پر طلبہ یونین کی بحالی جیسے سوالات کو ایک بار پھر پورے خطے میں مرکزی بحث کا حصہ بنا دیا۔
لیکن ہم اسے محض ایک فرد کا قتل سمجھتے ہوئے سماج میں موجود ان تاریخی مسائل کو سمجھنے میں ناکام رہیں گے جن کی وجہ سے آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ مشال خان کا قتل ایک پورے عہد، ایک پورے نظام اور ایک بگڑے ہوئے سماجی شعور کا عکاس تھا۔ مشال خان کو جس سفاکی سے مارا گیا، وہ کسی اچانک جنون یا وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل تاریخی، سیاسی اور معاشی عمل کی پیداوار تھا۔
اس کے خلاف لگائے گئے الزامات بعد میں جھوٹے ثابت ہوئے، مگر سوال آج بھی وہی ہے کہ ایک جھوٹ اتنی طاقت کیسے اختیار کر لیتا ہے کہ سینکڑوں افراد ایک انسان کی جان لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب کسی ایک واقعے میں نہیں مل سکتا بلکہ اس پورے سماجی ڈھانچے میں پوشیدہ ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جس طرح مذہب کو ریاستی پالیسی کے طور پر منظم انداز میں استعمال کیا گیا، اس نے نہ صرف سیاست بلکہ سماج کی نفسیات کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ تاہم اس عمل کو صرف اسی ایک عہد کا نتیجہ سمجھنا کافی نہیں، کیونکہ ریاست کو اپنے قیام کے بعد سے ہی سیاسی جواز، قومی یکجہتی اور مختلف طبقات پر کنٹرول قائم رکھنے کے لیے ایک ایسی زبان درکار تھی جو وسیع سطح پر قبولیت رکھتی ہو، اور مذہب اس مقصد کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بن گیا۔ ضیاء کے دور میں یہی رجحان زیادہ منظم، ادارہ جاتی اور شدت اختیار کر گیا، جبکہ بعد کی حکومتوں نے اسے ختم کرنے کے بجائے اسی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے برقرار رکھا، کیونکہ اس سے پیچھے ہٹنا خود ریاستی اختیار اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔ توہین جیسے مبہم اور خطرناک قوانین اسی تاریخی اور مادی ضرورت کے تحت تشکیل پائے اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے گئے۔ یوں مذہب، ریاست اور سیاست کا ایک ایسا گٹھ جوڑ بنا جس نے اختلافِ رائے کو محدود کیا اور سوال کو بغاوت کے مترادف بنا دیا۔
مشال خان کا جرم دراصل یہ تھا کہ وہ ایک باشعور نوجوان تھا، اور جس نوجوان کو شعور آ جائے اور درست نظریات مل جائیں، وہ خاموش نہیں رہ سکتا۔ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والی ناانصافی پر آنکھیں بند کرنے کے بجائے سوال کرنا اور آواز اٹھانا سیکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مشال خان یونیورسٹی میں پھیلی کرپشن، فیسوں میں مسلسل اضافے اور طلبہ کے حقوق کی پامالی پر کھل کر بات کرتا اور عملی طور پر اس کے خلاف آواز اٹھاتا تھا۔ وہ یونیورسٹی صرف ڈگری کے حصول کے لیے نہیں جاتا تھا بلکہ ایک ایسا نوجوان تھا جو اپنے اردگرد کے حالات کو بدلنے کا جذبہ رکھتا تھا، اور اسی لیے وہ منظم انداز میں طلبہ کے مسائل پر جدوجہد کرتا تھا۔ اسی عمل میں اس کی سوچ محض کسی ایک مسئلے کی نشاندہی تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ بتدریج اس پورے نظام کو سمجھنے اور اس کے خلاف کھڑے ہونے کی طرف مائل ہوا۔ مارکسی نظریات کی طرف اس کا رجحان بھی اسی جستجو کا نتیجہ تھا، جس نے اسے سماجی ناانصافیوں اور طبقاتی استحصال کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کا شعور دیا۔ اس کے کمرے کی دیوار پر آویزاں کارل مارکس اور چی گویرا کی تصاویر اس بات کی علامت تھیں کہ وہ موجودہ حالات کو ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے بجائے انہیں تبدیل کرنے کی خواہش اور حوصلہ رکھتا تھا۔
یہی چیز اسے اس نظام کے لیے ناقابلِ برداشت بنا رہی تھی۔ اس کا قتل محض کسی خودبخود ابھرنے والی مذہبی جنونیت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے سماجی اور ذہنی سانچے کی پیداوار تھا جو وقت کے ساتھ تشکیل پایا اور جس میں مذہبی جذبات کو منظم یا غیر منظم انداز میں متحرک کرنا آسان ہو چکا تھا۔ اسی فضا میں افواہوں، الزامات اور اشتعال نے تیزی سے وہ شکل اختیار کی جس نے طلبہ کی اس آواز کو نشانہ بنایا جو کرپشن، ناانصافی اور استحصال کے خلاف بلند ہو رہی تھی۔ اس عمل میں مختلف طلبہ تنظیمیں، یونیورسٹی انتظامیہ اور ریاستی ادارے کسی نہ کسی سطح پر یا تو شریک تھے یا خاموش تماشائی بنے رہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی، ویڈیوز کا بننا اور ہجوم کے تشدد کا تسلسل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ محض ایک اچانک پھوٹ پڑنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایسے حالات کا نتیجہ تھا جہاں تشدد کو نہ روکا گیا اور نہ ہی فوری طور پر چیلنج کیا گیا۔
تاہم یہ منصوبہ اپنے بنیادی مقصد میں مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔ مشال خان کو جسمانی طور پر خاموش کر دیا گیا، لیکن اس کی آواز اور اس کے اٹھائے گئے سوال ختم نہ کیے جا سکے۔ اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں نہ صرف شدید احتجاجی ردعمل سامنے آیا بلکہ یہ معاملہ بتدریج ایک وسیع تر طلبہ سیاست کے ابھار سے جڑتا چلا گیا۔ مختلف جامعات میں طلبہ نے ریلیاں نکالیں، احتجاجی جلسے منعقد کیے اور شمعیں روشن کر کے اس واقعے کی مذمت کی۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، پاکستان مقبوضہ جموں کشمیر، سندھ اور دیگر علاقوں کے تعلیمی اداروں میں طلبہ نے نہ صرف اس قتل کے خلاف آواز بلند کی بلکہ بڑھتی ہوئی فیسوں، انتظامی جبر اور کرپشن کے خلاف اپنی شکایات کو اجتماعی شکل دینا شروع کی۔ اسی تسلسل میں 2019ء میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے نے زور پکڑا اور یہ بحث دوبارہ مرکزی دھارے میں آئی کہ طلبہ کو منظم ہونے، اپنی نمائندگی رکھنے اور تعلیمی اداروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا حق دیا جانا چاہیے۔
طلبہ یونین بحالی مارچ نے طاقت کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا تھا۔ 55 سے زائد شہروں میں ہونے والے مارچوں کا اولین مطالبہ طلبہ یونین پر گزشتہ 36 سال سے عائد پابندی کا خاتمہ تھا۔ طلبہ نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا، چنانچہ حکومتی ایوانوں میں بھی طلبہ یونین کو نوجوانوں کا آئینی اور قانونی حق تسلیم کیا گیا۔ بیشتر صوبائی اسمبلیوں میں پابندی کے خلاف قراردادیں اور بل پیش ہوئے، لیکن روایتی سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے اس پوری بحث کو ’’کوڈ آف کنڈکٹ‘‘ میں الجھا دیا گیا۔ بعد ازاں کورونا وبا کی آڑ میں اس بحث کو منظرِ عام سے غائب کر دیا گیا۔ لیکن مشال خان کے قتل نے جس طلبہ سیاست کو نئی زندگی دی تھی، وہ ختم ہونے والی نہیں ہے۔ کورونا کے دوران بھی جبر کے خلاف لڑائی تیز ہوئی۔ پاکستان جیسے خستہ حال انفراسٹرکچر میں آن لائن ایجوکیشن کے مسائل کے خلاف طلبہ و طالبات نے ایک دلیرانہ لڑائی لڑی اور کسی حد تک فتح یاب ہوئے۔ اسی طرح جنسی ہراسانی کے خلاف بلوچستان سے لے کر پشاور اور گلگت تک احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ وظائف اور مختص نشستوں کے خاتمے کے خلاف بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے نوجوانوں نے سینکڑوں میل پیدل مارچ کر کے اپنا حق چھینا۔ میڈیکل کے طلبہ بھی جبری احکامات کے خلاف صف آرا ہوئے۔ پاکستان مقبوضہ جموں کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک میں طلبہ کا شاندار کردار رہا اور اسی تسلسل میں ’طلبہ ایکشن کمیٹی جموں کشمیر‘ وجود میں آئی۔ یہ سب اس بات کی نشان دہی ہے کہ جبر اور خاموشی ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے۔
مروجہ سرمایہ دارانہ نظام میں تعلیم کو باضابطہ طور پر ایک حق تو کہا جاتا ہے، مگر عملی طور پر یہ تیزی سے ایک ایسی سروس میں بدلتی جا رہی ہے جس کی فراہمی کا انحصار ادائیگی کی صلاحیت پر ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک فیصلے یا پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس وسیع تر معاشی دباؤ کا حصہ ہے جس کے تحت ریاستیں محدود مالی گنجائش، بڑھتے ہوئے قرضوں اور عالمی مالیاتی نظم کے تقاضوں کے درمیان اپنی ترجیحات دوبارہ ترتیب دیتی ہیں۔ اسی عمل میں سماجی بہبود سے جڑے شعبے اکثر بجٹ اور اصلاحاتی ترجیحات میں نسبتاً کم اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، جس کے اثرات بالآخر تعلیمی نظام کی ساخت اور رسائی دونوں پر پڑتے۔
اسی تناظر میں آئی ایم ایف کی شرائط، نجکاری کی پالیسیاں اور مہنگائی میں اضافہ محض الگ الگ عوامل نہیں رہتے بلکہ ایک ہی بڑے معاشی ڈھانچے کے مختلف اظہار بن جاتے ہیں، جن کا بوجھ بتدریج عام لوگوں اور خاص طور پر طلبہ پر منتقل ہوتا ہے۔ فیسوں میں اضافہ، سہولیات میں کمی اور تعلیمی اداروں کا کاروباری منطق کے تحت چلنا اسی تبدیلی کی علامتیں ہیں۔ نتیجتاً تعلیم تک رسائی رسمی طور پر برقرار رہنے کے باوجود عملی طور پر ان طبقات کے لیے زیادہ محدود ہو جاتی ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
پاکستان میں مشال خان کا واقعہ اسی جدوجہد کے تسلسل میں ایک اہم موڑ تھا۔ مشال کے قتل کے بعد طلبہ میں یہ احساس گہرا ہوا کہ انفرادی آواز کو دبایا جا سکتا ہے مگر اجتماعی جدوجہد کو نہیں۔ اگر ہم اس خطے کی بات کریں تو تقسیمِ برصغیر کے جس رجعتی بیانیے کی بنیاد پر پاکستان میں سیاست کی گئی، سامراجی قوتوں نے اس کا بھرپور استعمال کیا۔ سرد جنگ کے دور میں مذہبی بنیاد پرستی کو پروان چڑھایا گیا تاکہ بائیں بازو کی تحریکوں کو کچلا جا سکے۔ آج بھی لبرل اور مذہبی سیاست بظاہر مخالف ہونے کے باوجود درحقیقت اسی نظام کے تحفظ کا کام کر رہی ہیں۔ طبقاتی کشمکش اور عوامی مسائل کو دانستہ طور پر پسِ منظر میں رکھا جاتا ہے تاکہ اصل سوال سامنے نہ آئے۔
مشال خان کا قتل اسی بڑے بحران کا شاخسانہ تھا۔ یہ کسی ایک فرد کے خلاف محض درندگی نہیں تھی بلکہ ایک سوچ اور ممکنہ اجتماعی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش تھی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو گولی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آج نو برس گزر جانے کے بعد بھی سوال وہیں ہے: کیا ہم نے اس سانحے سے کچھ سیکھا؟ مشال خان کا خون اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے جو اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ اسے یاد کرنے کا بہترین طریقہ اس کے بتائے ہوئے جدوجہد کے راستے پر چلنا ہے۔ مشال خان جس سوچ کی بنیاد پر سماج سے ناانصافی، کرپشن اور استحصال کو مٹانا چاہتا تھا، اس خواب کی تکمیل اب ہماری ذمہ داری ہے۔ وہ ان نوجوانوں میں شامل تھا جو انقلابی مارکسی سوچ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ آج ضرورت ہے کہ ہزاروں مشال آگے آئیں اور اس بوسیدہ نظام کے خلاف منظم جدوجہد کا حصہ بنیں۔ یہ انتقام کسی ذاتی ردعمل کا نام نہیں بلکہ اس نظام کی تبدیلی کی جدوجہد ہے جو ایسے سانحات کو جنم دیتا ہے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ مشال خان کی لہو رنگ جدوجہد کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے اس ظالم نظام کو بدلیں گے اور مفت تعلیم کے خواب کو حقیقت بنائیں گے۔