سامراجی جارحیت کے سائے میں محنت کش خواتین کا عالمی دن

محنت کش خواتین کی آزادی کا سوال محض قانونی اصلاحات یا نمائشی نعروں سے حل نہیں ہو سکتا۔ جنگوں، معاشی استحصال، صنفی تشدد اور گھریلو غیر ادا شدہ محنت جیسے مسائل دراصل اسی طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں جو چند لوگوں کے منافع کو اکثریت کی زندگیوں پر ترجیح دیتا ہے۔ جب تک یہ نظام برقرار ہے، عورت کی محنت اور اس کی زندگی دونوں استحصال کا شکار رہیں گی۔ اس لیے محنت کش خواتین کے عالمی دن کی اصل روح صرف خراجِ تحسین پیش کرنے میں نہیں بلکہ اس اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں ہے جو ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے کی جا رہی ہے جہاں جنگ، استحصال اور صنفی جبر کی گنجائش باقی نہ رہے

محنت کش خواتین کا عالمی دن: جے کے این ایس ایف کے زیرِ اہتمام مختلف شہروں میں سیمینار، سٹڈی سرکلز اور تقاریب کا انعقاد

محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں تقریبات اور فکری سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں راولاکوٹ، ہجیرہ، راولپنڈی اور لاہور میں سیمینار، سٹڈی سرکلز اور افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جن میں خواتین کے حقوق، طبقاتی استحصال اور موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

موجودہ عہد کے تضادات اور خواتین کی جدوجہد

موجودہ عہد کے تمام تضادات واضح کرتے ہیں کہ خواتین کے مسائل کو سماج کے وسیع تر معاشی اور سیاسی ڈھانچے سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ صنفی جبر، معاشی استحصال، ماحولیاتی بحران اور سیاسی جبر دراصل ایک ہی نظام کے مختلف پہلو ہیں۔

آئی ایس ایل کی تیسری کانگریس: جموں و کشمیر پر قرارداد

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام قابض افواج جموں کشمیر سے مکمل طور پر واپس بلائی جائیں اور سابقہ شاہی ریاست کے تمام عوام کے بغیر کسی شرط کے اس حق کو تسلیم کیا جائے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں، چاہے وہ علیحدگی کا حق ہو یا الحاق و اتحاد کا۔ ہم سجھتے ہیں کہ تمام سیاسی اور علاقائی اکائیوں کی رضاکارانہ فیڈریشن پر مبنی،ایک آزاد، خودمختار، سیکولر اور سوشلسٹ جموں کشمیر ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس خطے کی اقوام کو غلامی اور استحصال سے نجات دلا سکتا ہے۔