مشال جو مارا گیا، مگر مرا نہیں
مشال خان کا قتل محض مذہبی جنونیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے بوسیدہ نظام کا شاخسانہ تھا جہاں شعور اور سوال کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ نو برس گزرنے کے باوجود مشال کا لہو اس استحصالی ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان ہے، جس کا واحد حل ایک منظم انقلابی جدوجہد میں ہے۔