جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا عبوری پروگرام طلبہ کی روز مرہ کی جدوجہدکو حق خودارادیت، جمہوری حقوق، آزادی اور جموں کشمیر میں ایک سوشلسٹ تبدیلی یا ایک غیر طبقاتی سماج کے قیام کی وسیع تر جدوجہد سے جوڑتا ہے۔ انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ابتدائیہ!
یہ دستاویز جموں کشمیر پر قابض سامراجی ریاستوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں سے لگائی جانے والی اصلاحات کی کوئی آس نہیں بلکہ جدوجہد کے لئے ایک عبوری پروگرام ہے۔ یہ ہمارے غاصبوں کے ضمیر کو جنجھوڑنے کی کوشش یا ان سے کوئی درخواست نہیں بلکہ وہ مطالبات ہیں جو ہماری عبوری جدوجہد کو سامراجی قبضے اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ”آزادی“ کی وسیع تر جدوجہد سے جوڑتے ہیں۔ سرمایہ داری کے تحت اصلاحات)بالخصوص خودمختاری، حق خودارادیت اور حق ملکیت حاصل کئے بغیر(بے انتہا تھکا دینے والی اور حتمی طور پر کسی مستقل اور معنی خیز تبدیلی میں ناکام ایسی لایعنی محنت ہیں جس کا کوئی نتیجہ نہ ہو۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں سے طلبہ کی فوری لڑای کو حق خودارادیت، آزادی اور سماج کی سوشلسٹ تبدیلی کی وسیع تر جدوجہد سے مربوط کرنے کے لئے اسی نقطہ نظر کو پروان چڑھا رہی ہے
بطور طالب علم ہم ایسے بحران کا سامنا کر رہے ہیں جس میں خستہ حال سکول، جامعات کے عسکرت زدہ کیمپس، ایک نصاب جو ریاستی پروپیگنڈے میں غرق ہے اور ایک ایسی معیشت جو طالب علموں کو جبری ہجرت کے سوا کچھ بھی دینے سے قاصر ہے، اسے قومی مسئلہ)تفصیل ہمارے منشور میں شامل ہے(سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظام ہمیں محض اس اضافی آبادی کے طور پر دیکھتا ہے جو بیرون ممالک سے ترسیلات زر بھیجنے تک محدود ہے۔ ہمارے ہزاروں ہم جماعت یا ہم عمر نوجوانوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ وہ طلبہ جنہیں اپنی محنت بیچنے پر مجبور کر دیا گیا، وہ اب طالب علم نہیں بلکہ اس نظام کی مسلط کردہ اقتصادی جنگ کے مہاجرین ہیں۔
اس صورتحال میں ہماری جدوجہد محض تعلیمی ادارے یا کیمپس تک محدود نہیں رہ سکتی۔مفت تعلیم کے حصول کی لڑائی دراصل وقار کے ساتھ اپنے لوگوں کے درمیان رہنے کا حق حاصل کرنے کی جدوجہد کے مترادف ہے۔ تعلیمی ادارے یا کیمپس کے اندر جمہوریت کے لئے لڑنا دراصل حق خود ارادیت کی جدوجہد ہے۔ نجکاری کے خلاف لڑنا ایسے نظام کے خلاف جدوجہد ہے جو ہمارے جسموں کو محض استعمال کرکے پھینکنے والی شے جبکہ ہماری زمینوں اور وسائل کو لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
یہ عبوری پروگرام از خود کوئی منزل نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لئے درکارعبوری جدوجہد کا ایک اوزارہے۔ بنیادی ضروریات کے حصول کی جدوجہد ہمیں سکھاتی ہے کہ ان حقوق کا اصل غاصب کون ہے؟ مثلاً جب ہم مفت کھانے پینے کے حصول کے لئے متحرک ہو تے ہیں تو ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کون ہے جو ہمیں بھوکا رکھ رہا ہے۔ جب ہم کیمپس سے سیکیورٹی فورسز کی بے دخلی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ کون ہے جو قابض ہے۔ اسی طرح جب ہم ایک پروپیگنڈے سے پاک نصاب کے لئے لڑتے ہیں تو ہمیں اس کا ادراک ہوتا ہے کہ کون ہے جو ہماری تاریخ مٹانے کے درپے ہے؟
چونکہ سامراجی قبضہ تعلیمی اداروں اور کیمپس تک محدود نہیں لہٰذا ہم بھی اپنی جدوجہد کو کیمپس تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ ہم ان کے لیے بھی لڑ رہے ہیں جو یہاں ان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے لیے بھی جنہیں اقتصادی ہجرت پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ بالآخر ہماری لڑائی آزادی اور اس پورے خطے کی سوشلسٹ تبدیلی کے لیے یا یہاں ایک غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے ہے۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن تمام طالب علموں، نوجوانوں، مزدوروں، کارکنوں، تارکینِ وطن اور ان تمام لوگوں کو متحد ہونے کے لئے پکارتی ہے جو سامراجی قبضے اور اس کو سہارا دینے والے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو اپنا مقدر ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
علم، جدوجہد، فتح!
فوری اور عبوری مطالبات
آفاقی عوامی تعلیم
- ریاست کی طرف سے مالی ذمہ داری کے ساتھ ابتداء سے گریجو ایشن تک تعلیم کو لازمی قرار دیتے ہوئے ہر شہری کو مفت فراہمی ممکن بنائی جائے۔
- تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں ترقیاتی فنڈز کے نام پر اضافی فیس اور امتحانی اخراجات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
- تعلیم کی نجکاری، بیرونی ٹھیکوں اور تعلیم کی تجارت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
نجی اسکولوں اور کالجوں پر کڑے قواعد و ضوابط کا اطلاق
- شفاف معیار کی بنیاد پر نجی تعلیمی اداروں کی لازمی رجسٹریشن اور سالانہ تجدید کا نظام نافذ کیا جائے۔
- طلبہ، والدین اور سرکاری آڈیٹرز پر مشتمل ایک آزاد ادارہ کے ذریعے نجی اداروں کے اکاونٹس کے سالانہ آڈٹ کے بعد رپورٹس کی اشاعت یقینی بنائی جائے۔
- عوامی سطح پر جوابدہ تعلیمی بورڈز کو قائم کرتے ہوئے فیسوں کو ان کی مقرر کردہ حدود کے اندر لایا جائے اور نجی اداروں کے منافع جات کی شرح کے حساب سے بتدریج ٹیکس نافذ کئے جائیں۔
- نجی تعلیمی اداروں کی تشہیری مہم پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
ٹیکس کی بنیاد پر رعائتی ڈھانچے کی تشکل
- نجی اداروں پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو دیہی و پسماندہ علاقوں میں سرکاری تعلیم پر ترجیحی سرمایہ کاری کے لیے وقف کیا جائے۔
- اعلیٰ ثانوی تعلیم)ہائر سیکنڈری(کی سطح تک تمام سرکاری اسکولوں میں مفت اور غذائیت سے بھرپور دوپہر کے کھانے کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
تعلیمی اداروں کا جمہوری نظامِ انتظام
- ہر کالج اور یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد لازمی کروایا جائے۔
- طلبہ، اساتذہ اور عملے پر مشتمل کونسلوں کو قائم کرتے ہوئے تمام انتظامی اور بجٹ سے متعلق فیصلہ جات کا اختیار ان کونسلوں کو دیا جائے۔
علمی اور انتظامی فیصلوں میں ریاست اور عسکری اداروں کی ہر قسم کی مداخلت ختم کی جائے۔ - ماسوائے تصدیق شدہ ہنگامی حالات کے کیمپس میں نجی سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
- کیمپس کی سیکیورٹی کا انتظام متعلقہ فیکلٹی، انتظامیہ اور طلبہ کے منتخب نمائندگان پر مشتمل متبادل کمیٹی کے سپرد کیا جائے جس کی سربراہی طلبہ کا منتخب نمائندہ کرے۔
- اساتذہ یا انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کی کسی بھی قسم کی اخلاقی نگرانی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
- طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے بغیر کسی خوف کے شکایات درج کروانے کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے۔
طلبہ کے لیے روزگار کی فراہمی اور عملے کا تحفظ
- سرکاری سطح پر مالی تعاون سے عوامی شعبے کی صنعتوں، ہسپتالوں، تحقیقی مراکز اور تکنیکی اداروں سے منسلک ’ورک اسٹڈی اوراپرنٹس شپ‘ جیسی عملی تعلیم کے پروگرام عمل میں لائے جائیں۔
- سرکاری اداروں میں کام کرنے والے تمام ’کنٹریکٹ، ایڈہاک اور آؤٹ سورس شدہ‘ ملازمین سمیت ہر طرح کے عارضی عملے)تدریسی و غیر تدریسی(کو فوری طور پر مستقل کیا جائے۔
- اساتذہ اور تعلیمی عملے کے اجتماعی حقوق کا مکمل تحفظ یقنی بنانے کے لئے یونین سازی کرتے ہوئے کسی بھی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر ہڑتال کا حق دیا جائے۔
صنفی امتیاز کا خاتمہ اور ہراسانی کے خلاف کمیٹیاں
- تمام تعلیمی اداروں میں صنف کی بنیاد پر بنائے گئے تمام امتیازی قوانین اور ضوابط کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
- تمام طلبہ تنظیموں، علمی کمیٹیوں اور انتظامی فورمز میں طالبات کی منتخب اور برابر نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے لازمی طریقہ کار نافذ کیا جائے۔
- جنسی ہراسانی کے خلاف تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات، طلبہ کے نمائندے اور اساتذہ پر مشتمل آزاد کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
- مکمل رازداری اور انتقامی کارروائی سے تحفظ یقینی بنا نے کے لئے ہراسانی کی رپورٹنگ کا واضح اور آسان طریقہ کار وضع کیا جائے۔
- ہراسانی کی تحقیقات اور ازالے کے لیے قومی سطح پر یکساں معیارات تیار کیے جائیں۔
سائنسی اور تکنیکی تعلیم کی وسعت
- سرکاری صنعتوں کے اشتراک سے لیبارٹریوں، کمپیوٹر کی سہولیات، انجینئرنگ پروگراموں اور تحقیق کے مواقع میں سرمایہ کاری کی جائے۔
- مقامی و عالمی اقتصادی ضروریات کے مطابق صلاحیتوں و مہارتوں کے لئے، ڈویژنل سطح پر پیشہ ورانہ تربیتی اداروں میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات پر تربیت و اسناد فراہم کی جائیں۔
- تحقیقی کاموں کی جانچ کے لیے ایسے ڈھانچے کی تشکیل کی جائے جس میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری شعبے کے متعلقہ ادارے بھی شامل ہوں۔
کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ اور فزیکل ایجوکیشن
- تمام سرکاری اداروں میں کھیلوں کے ڈھانچے بشمول کھیل کے میدانوں، انڈور کھیلوں کی سہولیات اور آلات کے لیے لازمی سرمایہ کاری کی جائے۔
- طبی بنیاد پر معیارات وضع کرتے ہوئے تربیت یافتہ انسٹرکٹرز کی زیر نگرانی فزیکل ایجوکیشن کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔
- خواتین کے لئے تربیتی سہولیات تک رسائی میں حائل امتیازی رکاوٹوں کا خاتمہ کرتے ہوئے خواتین ٹیموں کے لئے مساوی فنڈز سمیت ضروری ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے۔
- تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سہولیات کی تجارتی پیمانے پر فروخت یا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
گریڈنگ یا درجہ بندی کا نظام اور ہوم ورک کی پالیسیاں
- رٹا سسٹم پر مبنی امتحانات کی بجائے مسلسل اور تعمیری جانچ کا نظام نافذ کیا جائے۔
- سزا کے طور پر دیے جانے والے ہوم ورک اور نمبروں کی کٹوتی پر پابندی عائد کی جائے، تاکہ اسے سیکھنے کی بجائے ڈسپلن کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جاسکے۔
- والدین اور اساتذہ کی منتخب کمیٹیوں کے ذریعے ہوم ورک کے لیے ایک معقول حد کا تعین کیا جائے۔
سائنسی، تنقیدی اور جمہوری نصاب
- سائنسی تحقیق اور تنقیدی سوچ کو ترجیح دینے کے لئے نصاب کی تیاری آزاد تعلیمی ماہرین کے سپرد کی جائے۔
- تاریخ اور سماجی علوم کی کتابوں سے پروپیگنڈے کی غرض سے شامل تمام مسخ شدہ اور قابض بیانیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
- مقامی زبانوں کی ترویج و تحفظ سمیت ان زبانوں کو بھی فروغ دیا جائے جو عالمی تعلیمی اور تکنیکی تعاون میں مددگار ہوں۔
- حکومت یاسیکیورٹی اداروں کی جانب سے منعقدہ تقریبات میں طلبہ کی لازمی شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔
- تہواروں، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں پر عائد تمام رسمی و غیر رسمی پابندیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
- سرکاری جامعات میں موسیقی اور فنونِ لطیفہ کے باقاعدہ شعبے قائم کیے جائیں۔
ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل کی اصلاحات
- ضلعی سطح پر طلبہ کے لیے لازمی رعائتی کرایوں پر ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے۔
- سرکاری ہاسٹلز کی فراہمی کے لئے ضروری اقدامات اور درکار انفراسٹرکچر کی تعمیر تک نجی ہاسٹلز مالکان کی طرف سے طلبہ کے استحصال کو روکنے کے لئے کرایوں پر حدود مقرر کی جائیں۔
- ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل کی سہولیات کے حوالے سے طلبہ کی شکایات اور ازالے کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے۔
گلگت بلتستان کے ساتھ یکجہتی اور تعلیمی روابط
- ریسرچ کے لئے تعاون، ‘سرمائی اور گرمائی ایکچینج پروگراموں‘ سمیت دیگر ضروری امور پر جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی جامعات کے درمیان باضابطہ ادارہ جاتی روابط قائم کیے جائیں۔
- گلگت بلتستان کے طلبہ کے منصفانہ، جمہوری اور تعلیمی مستقبل کے لئے جی بی کے عوام کے حقِ آزادی کی حمایت کی جائے۔
- پورے خطے کے تمام پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے مساوی رسائی اور کوٹہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
خصوصی افراد کے تعلیمی حقوق
- تمام تعلیمی اداروں اور کیمپسز کی عمارتوں میں خصوصی افراد)منفرد جمسانی یا ذہنی ضروریات رکھنے والے افراد(کی سہولت کے لیے لازمی تبدیلیاں کرتے ہوئے معاون ٹیکنالوجی مفت فراہم کی جائے۔
- منفرد جسمانی اور ذہنی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے لیے خصوصی وظائف جاری کیے جائیں۔
- منفرد تعلیمی ضروریات والے طلبہ کی مدد کو یقینی بنانے کے لئے ہر ضلع میں تربیت یافتہ اساتذہ اور نفسیاتی و سماجی تعاون کا عملہ فراہم کیا جائے۔
ڈیجیٹل رسائی
- سرکاری اداروں میں طلبہ کے لیے انٹرنیٹ کی مفت فراہمی اور ہر ضلع میں عوامی کمپیوٹر لیبز قائم کی جائیں۔
- ٹیلی کام کمپنیوں کو ریگولیٹ کرتے ہوئے طلبہ کے لئے انٹرنیٹ کے نرخ سستے اور قابلِ رسائی بنائے جائیں۔
- سرکاری نظامِ تعلیم میں ڈیجیٹل خواندگی کے پروگرام شامل کیے جائیں۔
ماحول دوست کیمپس پالیسی
- ماحول دوست توانائی کے استعمال، صاف پانی کی فراہمی اور پانی کی بچت کے نظام کے علاوہ ری سائیکلنگ کے لئے تمام تعلیمی اداروں میں جامع اور پائیدار منصوبوں کو اپنانا لازمی قرار دیا جائے۔
- آزاد سرکاری ایجنسیوں اور کیمپس کی ماحولیاتی کمیٹیوں کے ذریعے ماحولیاتی آڈٹ کا انعقاد مخصوص دورانیہ طے کرتے ہوئے تسلسل کے ساتھ کیا جائے۔