تحریر: بینش کاظم
موجودہ عہد میں سرمایہ داری گہرے ہوتے معاشی بحران، بڑھتے ہوئے سامراجی تضادات، جنگوں، خانہ جنگیوں، انتہا پسند فسطائی دائیں بازو کے ابھار، نام نہاد لبرل جمہوری قدروں کے خاتمے اور سنگین ہوتے ماحولیاتی مسائل جیسے کثیر الجہتی بحرانوں سے دوچار ہے۔
سرمایہ داری نے محنت کش طبقے کا استحصال کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو دہرے، تہرے استحصال کا شکار بنا رکھا ہے۔ فیکٹریوں، دفاتر، کھیتوں اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو کم اجرت، اور طویل اوقاتِ کار کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر خواتین کی اجرت مردوں سے کم ہے اور غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والی خواتین قانونی تحفظ سے محروم ہیں۔
8 مارچ کا تاریخی پس منظر
8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1908 میں نیویارک میں محنت کش خواتین کی ہڑتال اور 1917 کے روسی انقلاب میں خواتین کے نمایاں کردار کی یاد دلاتا ہے۔
اس دن کی باقاعدہ بنیاد 1910 میں کوپن ہیگن میں ہونے والی سوشلسٹ خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس میں رکھی گئی، جہاں جرمن انقلابی رہنما کلارا زیتکن نے تجویز پیش کی کہ دنیا بھر کی محنت کش خواتین کے حقوق اور جدوجہد کو اجاگر کرنے کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کو کانفرنس میں شریک مختلف ممالک کی خواتین نمائندوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
اس کے بعد مختلف ممالک میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مظاہرے، ہڑتالیں اور جلسے منعقد ہونے لگے جن میں خواتین نے بہتر اجرت، سیاسی حقوق، ووٹ کے حق اور مساوی سماجی حیثیت کے مطالبات اٹھائے۔ آج دنیا میں سرمایہ داری کے تضادات مزید شدت اختیار کر چکے ہیں اور خواتین کئی محاذوں پر لڑائی لڑ رہی ہیں، جن میں معاشی استحصال، صنفی جبر، ماحولیاتی تباہی اور جنسی حراسگی جیسے مسائل شامل ہیں۔
عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر حراسگی
جنسی حراسگی سرمایہ داری اور پدرشاہی کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے جو خواتین کو خوف زدہ اور محکوم رکھنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ دفاتر، تعلیمی اداروں، ٹرانسپورٹ اور یہاں تک کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی خواتین کو حراسگی کا سامنا ہے۔ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو انصاف نہیں ملتا۔ اس کا مقصد خواتین کو ان کے سیاسی اور سماجی کردار سے روکنا اور ان کی آزادی کو محدود کرنا ہے۔
عام طور پر جب ہم عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں دو طرح کے نقطۂ نظر دیکھنے کو ملتے ہیں: ملائیت یا پھر لبرلزم۔ ملائیت ہو یا لبرلزم، یہ دونوں نظریے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ہمیشہ سے ہی مذہبی سوچ یا ملائیت نے عورت کو برقعے اور چار دیواری میں قید کرنا ہی اس کی نجات قرار دیا ہے۔ وہیں لبرلزم نے عورت کو صرف ایک کموڈیٹی بنا کر رکھ دیا ہے، جس میں عورت کی خوبصورتی کو منافع خوری کے لیے اشتہار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
جبکہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں آبادی کا بہت بڑا حصہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، روٹی سے محرومی، لاعلاجی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ یہاں سرمایہ رکھنے والے مرد ہوں یا عورت، محنت کش خواتین اور مردوں دونوں کا برابر استحصال کرتے ہیں۔ تاہم اس استحصال کی شدت ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی۔ محنت کش مرد بھی اس نظام میں معاشی جبر اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں، مگر خواتین کو اکثر اسی استحصالی ڈھانچے کے اندر اضافی رکاوٹوں اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کم اجرت، غیر رسمی کام، گھریلو محنت اور سماجی پابندیاں ایسی حقیقتیں ہیں جو خواتین کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی اور خواتین
ماحولیاتی تبدیلی کا بحران سرمایہ دارانہ لالچ کا نتیجہ ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور محنت کش طبقے کو ہو رہا ہے، جن میں خواتین نمایاں ہیں۔ قدرتی آفات، خشک سالی اور سیلاب جیسے ماحولیاتی مسائل نے خواتین کے لیے مزید مشکلات پیدا کی ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔ دیہی علاقوں میں خواتین زراعت پر انحصار کرتی ہیں اور جب قدرتی وسائل ختم ہوتے ہیں تو ان کی روزی روٹی اور زندگیوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔
نام نہاد آزاد کشمیر کی حکومت نے 2017 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں 1960 سے 2013 تک ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا موازنہ کیا گیا ہے جس کے مطابق یہاں کے درجہ حرارت میں 1.5 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہوا ہے۔
جس کی بنیادی وجوہات میں یہاں کے جنگلات کا کٹاؤ ہے، جو کہ کشمیر کے تقریباً 48 فیصد رقبے پر تھے اور اب تقریباً 35 فیصد تک رہ گئے ہیں۔ یہاں کے ہر دریا کو روک کر ڈیم بنائے گئے ہیں جو یہاں کے درجہ حرارت بڑھنے کی اہم وجہ ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دسمبر اور جنوری میں ہونے والی برفباری اب فروری اور مارچ میں ہو رہی ہے، جو کہ گلیشیئر بنانے کے بجائے انہیں پگھلانے کا باعث بنتی ہے۔ اس کی وجہ سے پینے کے پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، چشمے اور جھیلیں خشک ہو رہی ہیں۔
اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کا سب سے زیادہ خواتین کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں جہاں دنیا مصنوعی ذہانت میں اتنی ترقی کر چکی ہے وہیں ہماری پسماندگی بھی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ دنیا روبوٹس کی مدد سے روزمرہ کے کام سر انجام دے رہی ہے اور ہماری خواتین آج بھی میلوں دور جا کر پانی لانے پر مجبور ہیں۔
دنیا میں جنگوں اور خانہ جنگیوں کے بعد ماحولیاتی تبدیلیاں انسانی آبادی کی ہجرت کی بڑی وجہ ہیں۔ جیسا کہ لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا: “زندگی ہمیشہ کمزور کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔” اور ہمارے عہد میں خواتین اور بچوں سے زیادہ کمزور کون ہو سکتا ہے؟ ان ہجرتوں کے نتیجے میں خواتین اور بچے ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
عوامی انقلابی تحریکیں اور خواتین کا کردار
تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی انقلابی اور عوامی تحریک میں خواتین نے بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ 1789 کا فرانسیسی انقلاب ہو، 1917 کا روسی انقلاب یا جدید دور کی عوامی تحریکیں، خواتین نہ صرف ان جدوجہدوں کا حصہ رہی ہیں بلکہ کئی مواقع پر ان تحریکوں کی ابتدا اور سمت متعین کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
1917 کے روسی انقلاب کی ایک نمایاں مثال موجود ہے۔ اس انقلاب کا آغاز دراصل سینٹ پیٹرزبرگ میں خواتین محنت کشوں کی ہڑتال سے ہوا جب انہوں نے َ“روٹی، امن اور مساوات” کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ یہ تحریک تیزی سے پورے روس میں پھیل گئی اور بالآخر زار شاہی کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی بنیاد بنی۔
اسی طرح جدید دور کی عوامی تحریکوں میں بھی خواتین کی بھرپور شرکت نظر آتی ہے۔ 2011 کی عرب بہار کے دوران تیونس، مصر، لیبیا اور شام میں خواتین نے احتجاجی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ الجزائر اور سوڈان میں بھی خواتین نہ صرف مظاہروں میں شریک رہیں بلکہ کئی مواقع پر ان تحریکوں کی قیادت کرتی دکھائی دیں۔
حالیہ برسوں میں بھی دنیا کے مختلف خطوں میں خواتین کی مزاحمت واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین نے اپنی بنیادی آزادیوں کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے۔ ایران میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد خواتین کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک اٹھی۔ اسی طرح بھارت میں ڈاکٹر مومتا کے ریپ اور وحشیانہ قتل کے خلاف خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی۔ پاکستان میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج اور جموں کشمیر کی عوامی حقوق تحریک میں بھی خواتین نے فعال کردار ادا کیا۔
خاص طور پر پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی حالیہ عوامی تحریک میں خواتین کی بڑی تعداد سامنے آئی۔ انہوں نے دہائیوں سے مسلط ملائیت اور پدرشاہی سوچ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لیے مختلف مقامات پر پروگرام اور احتجاج منظم کیے۔ جموں کشمیر کے مختلف شہروں میں ان خواتین نے نہ صرف ان احتجاجوں میں شرکت کی بلکہ کئی مقامات پر ان کی قیادت بھی کی۔
یہ جدوجہد مستقبل میں یہاں کی خواتین کے ایک اہم مثال بن سکتی ہے۔ بالخصوص جے کے این ایس ایف اور دیگر ترقی پسند تحریکوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ سماجی تبدیلی کا عمل کسی ایک جنس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ پورے محنت کش طبقے کی مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہی آگے بڑھتا ہے۔
مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور خواتین
مصنوعی ذہانت آج کے دور کی تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی معیشت، صنعت، تعلیم، صحت اور روزمرہ زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کو متاثر کر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی ترقی اور سہولت کی علامت نظر آتی ہے، لیکن اس کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات بھی اتنے ہی گہرے ہیں، جن کا بوجھ زیادہ تر محنت کش طبقے اور خاص طور پر خواتین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
سرمایہ دارانہ معیشت میں نئی ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد انسانی ضروریات کی تکمیل نہیں بلکہ منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے مصنوعی ذہانت اور خودکار مشینوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے محنت کشوں کے لیے روزگار کے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ صنعتی پیداوار، بینکاری، کسٹمر سروس، ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر شعبوں میں وہ کام جو پہلے ہزاروں ملازمین انجام دیتے تھے اب سافٹ ویئر اور روبوٹک نظام کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں لاکھوں محنت کشوں کی ملازمتیں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہی ہیں۔
اس عمل کے اثرات خواتین پر نسبتاً زیادہ پڑ رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ایسی ملازمتوں میں کام کرتی ہے جو خودکار نظام کے ذریعے آسانی سے تبدیل کی جا سکتی ہیں، جیسے دفتری معاونت، ڈیٹا انٹری، کسٹمر سپورٹ اور ٹیکسٹائل یا الیکٹرانکس کی صنعت۔ جب ان شعبوں میں مشینیں انسانی محنت کی جگہ لیتی ہیں تو سب سے پہلے کم اجرت پر کام کرنے والے کارکن متاثر ہوتے ہیں، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ اس طرح ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود معاشی عدم مساوات مزید گہری ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف ڈیجیٹل معیشت میں بھی صنفی عدم مساوات برقرار ہے۔ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی نسبتاً کم ہے، جس کی وجہ سے نئی ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے استعمال کے فیصلوں میں بھی ان کی شرکت محدود رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے اے آئی سسٹمز میں موجود ڈیٹا اور الگورتھمز صنفی تعصب کو بھی دوبارہ پیدا کر دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر کچھ خودکار بھرتی کے نظام ایسے ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں جس میں ماضی کے صنفی امتیاز شامل ہوتے ہیں، جس کے باعث خواتین کو ملازمتوں کے مواقع کم مل سکتے ہیں۔ اس لیے ٹیکنالوجی کی ترقی کو صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی مسئلہ بھی سمجھنا ضروری ہے۔ جب تک معیشت اور پیداوار کا نظام منافع کی بنیاد پر چلتا رہے گا، نئی ٹیکنالوجی کے فوائد بھی چند طبقات تک محدود رہیں گے جبکہ اس کے منفی اثرات کا بوجھ زیادہ تر محنت کش طبقے کو برداشت کرنا پڑے گا۔اس کے برعکس ایک منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت کا تصور ہے جہاں پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کا مقصد منافع نہیں بلکہ انسانی ضروریات کی تکمیل ہوتا ہے۔ ایسے سماج میں مصنوعی ذہانت سمیت تمام جدید ٹیکنالوجی کو انسان کی فلاح اور اجتماعی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
راہِ نجات سوشلسٹ انقلاب
موجودہ عہد کے تمام تضادات واضح کرتے ہیں کہ خواتین کے مسائل کو سماج کے وسیع تر معاشی اور سیاسی ڈھانچے سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ صنفی جبر، معاشی استحصال، ماحولیاتی بحران اور سیاسی جبر دراصل ایک ہی نظام کے مختلف پہلو ہیں۔
اسی لیے خواتین کی حقیقی آزادی صرف قانونی اصلاحات یا نمائشی اقدامات سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ایک ایسی سماجی تبدیلی درکار ہے جس میں استحصال پر مبنی اس نظام کو بنیادی طور پر چیلنج کیا جائے۔ آج دنیا بھر میں محنت کش خواتین جس جرات اور عزم کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ جب خواتین محنت کش طبقے کی اجتماعی جدوجہد کا حصہ بنتی ہیں تو وہ نہ صرف اپنے حقوق کے لیے لڑتی ہیں بلکہ ایک ایسے سماج کی بنیاد بھی رکھتی ہیں جہاں مساوات، آزادی اور انسانی وقار واقعی ممکن ہو سکے۔