غلامی سے اجرت تک⁦:⁩نوآبادیات کے معاشی زخم اور ہجرت


ارسلان شانی

ہجرت آج کے دور کا ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جو دنیا کے ہر خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ کروڑوں لوگ اپنے وطن سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ ہر سال ہزاروں افراد ایسے خطرناک راستوں میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں جہاں نہ منزل یقینی ہوتی ہے اور نہ واپسی ممکن۔ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کے “مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ” کے مطابق⁦2025⁩میں دنیا بھر کے ہجرتی راستوں پر⁦7,904⁩اموات اور گمشدگیاں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ⁦2014⁩سے اب تک یہ تعداد⁦80⁩ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ادارہ واضح کرتا ہے کہ یہ اعداد و شمار اصل تعداد کا کم از کم اندازہ ہیں، کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ اس بحران سے کم از کم⁦3⁩لاکھ⁦40⁩ہزار خاندان براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

مارکس نے محنت کش طبقے کی بے اختیاری کو جس طرح سمجھایا تھا، وہ آج جبری ہجرت اور معاشی بے دخلی کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ صاف دکھائی دیتی ہے۔ محنت کش کے پاس اپنی محنت فروخت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا، کیونکہ اسے زمین، وسائل اور ذرائعِ پیداوار کی ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جب اس کے اپنے خطے میں روزگار کے دروازے بند کر دیے جائیں تو سرحد، زبان اور ثقافت کی رکاوٹیں بھی اس کی مجبوری کے سامنے ثانوی ہو جاتی ہیں۔ وہ کہیں بھی جانے پر مجبور ہوتا ہے جہاں اس کی محنت خریدی جا سکے۔ یوں ہجرت کسی بہتر زندگی کی آزادانہ خواہش نہیں رہتی بلکہ بقا کی ایک تلخ جدوجہد بن جاتی ہے۔  پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ حقیقت نہایت واضح ہے۔ یہاں ہجرت کوئی وقتی رجحان نہیں بلکہ ایک مستقل معاشی ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً⁦20⁩لاکھ کشمیری بیرون ملک مقیم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ⁦45⁩لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والے اس خطے کا ایک بڑا حصہ اپنی روزی روٹی کے لیے وطن سے باہر رہنے پر مجبور ہے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں جا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں نہیں رک سکتے۔

اگر ہم صرف پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کو دیکھیں تو یہ خطہ قدرتی وسائل، معدنیات، جنگلات اور پانی سے مالامال ہے۔ اگر یہاں صرف سیاحت کے فروغ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے تو ایسی آمدن حاصل کی جا سکتی ہے جس سے اس خطے کو نمایاں حد تک غربت سے نکالا جا سکتا ہے۔ لیکن نوآبادیاتی طرزِ حکومت، جسے مقامی سہولت کاروں کے ذریعے برقرار رکھا گیا ہے، مقامی معیشت کی کمزوری کی بنیادی وجہ ہے۔ نہ صنعت موجود ہے، نہ زراعت جدید بنیادوں پر استوار ہے، اور نہ ہی روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری نوکریاں محدود ہیں اور اکثر تعلقات سے جڑی ہوتی ہیں، جبکہ نجی شعبہ انتہائی کمزور ہے۔ ایسے حالات میں نوجوان کے پاس یا تو بے روزگاری کا راستہ بچتا ہے یا ہجرت کا۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک جانا اس معاشرے میں ایک عام اور قابلِ قبول راستہ بن چکا ہے۔

لیکن اس ہجرت کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے ان محنت کشوں کی عملی زندگی۔ وہ کبھی یورپ کی سرد ہوائیں جھیل رہے ہوتے ہیں اور کبھی عرب کے تپتے صحراؤں میں اپنی محنت کم اجرت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک میں جانے والے زیادہ تر کشمیری مزدور کم اجرت پر نہایت سخت حالات میں کام کرتے ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد تعمیرات، صفائی، ڈرائیونگ، سیکیورٹی اور دیگر محنت طلب کاموں سے وابستہ ہوتی ہے، جہاں انہیں طویل اوقاتِ کار، شدید گرمی، غیر معیاری رہائش اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔

بعض اوقات ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں، اجرت میں تاخیر یا کٹوتی معمول بن جاتی ہے، اور شکایت کے مؤثر نظام تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ وہ قانونی اور سماجی طور پر کمزور حیثیت میں ہوتے ہیں، جس کے باعث استحصال کے خلاف آواز اٹھانا ان کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ کئی محنت کش بھاری قرض لے کر بیرون ملک جاتے ہیں اور ابتدائی مہینوں، بلکہ بعض اوقات سالوں تک، صرف قرض اور سود اتارنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس دوران اگر نوکری ختم ہو جائے یا آجر بدل جائے تو ان کے پاس نہ کوئی سہارا ہوتا ہے اور نہ واپسی کا محفوظ راستہ۔

کام کی جگہوں پر حفاظتی انتظامات کی کمی کے باعث حادثات عام ہیں، جبکہ شدید موسم اور مسلسل مشقت ان کی صحت کو تیزی سے متاثر کرتی ہے۔ اکثر محنت کش تنگ و تاریک کمروں میں رہتے ہیں، جہاں ایک ہی کمرے میں کئی کئی افراد کو ٹھونس دیا جاتا ہے۔ ناقص خوراک، صاف پانی کی کمی اور آرام کے فقدان کے باعث جسمانی کمزوری، دل اور سانس کی بیماریاں، جلدی امراض اور ذہنی دباؤ عام ہو جاتے ہیں۔ تنہائی، گھر والوں سے دوری اور غیر یقینی مستقبل کی فکر انہیں ذہنی طور پر بھی توڑ دیتی ہے، مگر وہ یہ سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پیچھے ایک پورا خاندان ان پر انحصار کر رہا ہوتا ہے۔

یوں جو ہجرت باہر سے کامیابی اور خوشحالی کا راستہ دکھائی دیتی ہے، اس کے پیچھے ایک نہایت کڑی اور تلخ حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ یہ وہ زندگی ہے جس میں انسان صرف اپنی محنت ہی سستے داموں نہیں بیچتا بلکہ اپنی عزت، وقت، صحت اور جوانی کے بہترین سال بھی قربان کر دیتا ہے۔اس اذیت ناک زندگی کے باوجود بیرون ملک مقیم کشمیری ہر سال بڑی مقدار میں زرِ مبادلہ اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں۔ اسی کمائی سے یہاں کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں، علاج معالجے کا بندوبست ہوتا ہے، بچوں کی تعلیم جاری رہتی ہے، شادیاں ہوتی ہیں، اور رہائش کے مسائل کسی حد تک حل ہو پاتے ہیں۔ گویا اس خطے کی روزمرہ زندگی کا ایک بڑا انحصار انہی ترسیلاتِ زر پر قائم ہے۔

پاکستان کو مجموعی طور پر⁦30⁩ارب ڈالر سے زائد سالانہ ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں، جن میں ایک نمایاں حصہ کشمیریوں کا بھی شامل ہے۔ اس طرح ایک انحصاری معاشی چکر وجود میں آتا ہے جس میں یہ خطہ اپنی بقا کے لیے بیرونی آمدن پر انحصار کرتا ہے، مگر اسی آمدن کو اپنی مقامی معاشی ترقی، صنعتی بنیاد کے قیام یا پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے منظم انداز میں استعمال نہیں کر پاتا۔اگر یہاں ایک خودمختار اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ مالیاتی ادارہ، مثلاً ریاستی سطح کا خودمختار بینکاری نظام، موجود ہو تو اسی رقم کو مقامی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ خصوصاً سیاحت جیسے شعبے میں، جہاں قدرتی وسائل پہلے ہی موجود ہیں، مقامی افراد کو آسان اقساط پر قرضے فراہم کر کے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اس عمل کی ایک بڑی سماجی قیمت بھی ہے۔ خاندان بکھر جاتے ہیں، بچے اپنے والدین سے دور ہو جاتے ہیں، اور نوجوان اپنی زندگی کے اہم سال پردیس میں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ دیہات میں اکثر گھر خالی رہ جاتے ہیں یا صرف بوڑھے افراد اور خواتین رہ جاتی ہیں۔ یہ ایک خاموش سماجی ٹوٹ پھوٹ ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو اندر ہی اندر کمزور کرتی رہتی ہے۔  یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جموں و کشمیر کی ہجرت کوئی الگ تھلگ یا وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی معاشی نظام کا حصہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو سستی محنت درکار ہوتی ہے، جبکہ پسماندہ خطوں میں روزگار کے مواقع محدود رکھے جاتے ہیں اور شعوری طور پر کمزور کیے جاتے ہیں۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں محنت کش اپنی بقا کی خاطر انہی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

آخرکار اصل سوال سرحدوں کا نہیں بلکہ معاشی و سیاسی نظام کا ہے۔ جب تک مقامی سطح پر روزگار کے حقیقی مواقع پیدا نہیں کیے جاتے، معیشت کو خود کفالت کی بنیاد نہیں ملتی، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں بنائی جاتی، تب تک انسان اپنے گھروں، اپنی مٹی اور اپنے سماج سے دور جانے پر مجبور رہیں گے۔ اسی تناظر میں اگر مقامی سطح پر حقیقی سیاسی و معاشی اختیار مضبوط کیا جائے تو ہجرت کو مجبوری کے بجائے ایک حقیقی انتخاب میں بدلا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہے گا، اور پورا خطہ اپنی معاشی بقا کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتا رہے گا۔ یوں واضح ہے کہ ہجرت اس وقت تک ایک مجبوری ہی رہے گی جب تک اس کے بنیادی معاشی اسباب کو دور نہیں کیا جاتا۔

Share