نوجوان، طلبہ سیاست اور عالمی مزاحمت کا نیا دور

فیضان عزیز⁦)⁩جوائنٹ سیکرٹری )

دنیا بھر میں حالیہ برسوں کے دوران ابھرنے والی عوامی تحریکوں اور بغاوتوں میں نوجوانوں اور طلبہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ  نیپال اور  بنگلہ دیش  کی تحریکیں ہوں، فرانس میں پنشن اصلاحات کے خلاف احتجاج، امریکہ اور برطانیہ میں ابھرنے والی مزدور ہڑتالیں، یا فلسطین کے حق میں دنیا بھر کی جامعات میں ہونے والے طلبہ مظاہرے، ہر جگہ نوجوان سماجی و سیاسی بحران کے خلاف صفِ اول میں نظر آئے ہیں۔ ان تحریکوں نے یہ واضح کیا ہے کہ موجودہ عہد میں طلبہ سیاست صرف کیمپس کے مسائل تک محدود نہیں رہی بلکہ نوجوان اپنی زندگیوں، مستقبل، جنگ، معاشی استحصال، ریاستی جبر اور سماجی ناانصافی کے وسیع تر سوالات پر متحرک ہو رہے ہیں۔ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی حالیہ عوامی تحریکوں میں نوجوانوں کا کردار اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے، جہاں ایک نئی نسل اپنے مستقبل، شناخت اور بنیادی حقوق کے سوالات کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔

پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں نوجوانوں کی ایک پوری نسل ایسے سماجی، معاشی اور سیاسی تضادات کے درمیان پروان چڑھ رہی ہے جہاں تعلیم کو ترقی اور نجات کا واحد راستہ کہا جاتا ہے، مگر اسی تعلیم کے بعد نوجوان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ روزگار کے لیے  کہاں جانا ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کو ایک بہتر مستقبل کے خواب دکھائے جاتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ان کے سامنے یا خلیجی ممالک کی محنت کی منڈیاں ہوتی ہیں، یا یورپ کی طرف غیر یقینی ہجرت کا راستہ۔ اس خطے میں تعلیم اکثر ایک ایسے سفر میں بدل جاتی ہے جس کا اختتام اپنی ہی سرزمین سے بے دخلی پر ہوتا ہے۔ یہی تضاد آج طلبہ سیاست اور نوجوانوں کی جدوجہد کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بناتا ہے۔

حکمران طبقہ اکثر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کشمیر میں شرحِ خواندگی بہت بلند ہے اور اسے اپنی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر انہی سرکاری اعداد و شمار کی ساخت دیکھی جائے تو ایک مختلف حقیقت سامنے آتی ہے۔ سرکاری لیبر فورس سروے کے مطابق شرحِ خواندگی تقریباً⁦77.8⁩فیصد دکھائی جاتی ہے، مگر اس کی بڑی بنیاد “پری میٹرک” سطح کی تعلیم پر کھڑی ہے۔ یعنی اکثریت یا تو ابتدائی جماعتوں تک پہنچی یا میٹرک سے پہلے ہی تعلیمی نظام سے باہر ہو گئی۔ ڈگری اور اس سے اوپر کی تعلیم رکھنے والوں کی شرح انتہائی کم ہے جبکہ خواتین میں یہ تناسب مزید نیچے چلا جاتا ہے۔ اس طرح مجموعی شرحِ خواندگی کو بار بار دہرا کر ایک مصنوعی ترقی کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ادھوری تعلیم کے ساتھ محنت کی منڈی میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔

خواتین طلبہ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود یا تو شادی کے بعد گھریلو قید اور انتظار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہےیا پھر نجی سکولوں اور اکیڈمیوں میں انتہائی کم اجرت پر کام کرتی ہیں جہاں نہ کوئی جاب سکیورٹی موجود ہوتی ہے، نہ یونین سازی کا حق اور نہ ہی باعزت کام کے حالات۔ اس پورے نظام میں خواتین کی تعلیم کو بھی اکثر ایک آزاد انسان کی تشکیل کے بجائے صرف سماجی حیثیت یا شادی کے بازار سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔

طلبہ یونینوں پر پابندی جنرل ضیاء آمریت کے دور میں لگائی گئی تھی، مگر اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی اس پابندی کو  ختم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے تقریباً ہر مرکزی دھارے کی جماعت طلبہ یونین کی بحالی کے حق میں بیانات دیتی ہے  اور نوجوانوں کے جمہوری حقوق کی بات کرتی ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد یہی مطالبات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں رسمی طور پر طلبہ یونینوں پر پابندی موجود نہ ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں میں انتخابات نہیں کروائے جاتے۔ اس کی وجہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ حکمران طبقے کا خوف ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر نوجوان منظم ہونا شروع ہوئے تو ان کی جدوجہد صرف یونین انتخابات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وہ تعلیم، روزگار، طبقاتی استحصال، قومی سوال اور ریاستی جبر جیسے بڑے مسائل کو بھی چیلنج کریں گے۔

اسی لیے طلبہ سیاست کو صرف طلبہ یونین کے مطالبے تک محدود کر دینا کافی نہیں۔ یونینیں ایک بنیادی جمہوری حق ہیں، لیکن نوجوانوں کو درپیش مسائل اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرے ہیں۔ ایک ایسا سماج جہاں نوجوانوں کی اکثریت ہجرت پر مجبور ہو، جہاں تعلیم کاروبار بن چکی ہو، جہاں خواتین تعلیم کے باوجود معاشی آزادی سے محروم ہوں، جہاں نصاب تنقیدی شعور کے بجائے اطاعت پیدا کرے، وہاں صرف انتخابات کروانے سے بحران حل نہیں ہو سکتا۔

ایسے حالات میں نوجوانوں کے لیے محض وقتی غصے یا محدود احتجاج کافی نہیں۔ منظم ہونا، سیاسی طور پر باشعور ہونا، اور اپنی جدوجہد کو ایک سائنسی نظریے اور واضح پروگرام کی بنیاد پر آگے بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ بغیر نظریاتی وضاحت کے تحریکیں وقتی ابھار تو پیدا کر سکتی ہیں، لیکن سماج میں دیرپا تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ آج کے عہد میں طلبہ سیاست کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ نوجوانوں کو نہ صرف اپنے مسائل سمجھنے کا راستہ دیتی ہے بلکہ ان مسائل کی جڑوں کو پہچاننے اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے انہیں بدلنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہے۔

 

Share