جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن(JKNSF)اپنے ڈپٹی سیکرٹری جنرل، مجیب اکبر، کی مبینہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور سخت مذمت کا اظہار کرتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق17جولائی کو دوپہر تقریباً2بجے لاہور کے علاقے ایجوکیشن ٹاؤن، وحدت روڈ میں واقع رہائش گاہ سے چند اہلکار کامریڈ مجیب اکبر کو اپنے ساتھ لے گئے۔ دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق انہیں ایک ایمبولینس میں منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر ان کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔
مجیب اکبر نے حال ہی میں جامعہ پنجاب سے سوشیالوجی میں گریجویشن مکمل کی تھی اور ایم فل میں داخلے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ ایک طالبعلم رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے سلسلے میں فاسٹ فوڈ کے کاروبار سے بھی وابستہ تھے۔ گزشتہ عرصے کے دوران وہ جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک اور طلبہ تنظیمی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کر رہے تھے۔ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرائی جا چکی ہے، تاہم تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ مجیب اکبر کی گرفتاری یا حراست کے حوالے سے کسی بھی ریاستی ادارے نے قانونی طور پر کوئی مؤقف یا معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن واضح کرتی ہے کہ کسی بھی فرد کو جبری طور پر لاپتہ کرنا، ماورائے قانون حراست میں رکھنا، اور اس کے اہل خانہ کو اس کی حالت و مقام سے بے خبر رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی جموں کشمیر کے متعدد سیاسی، طلبہ اور سماجی کارکنوں کو اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر شہروں سے مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔ بعض افراد کو بعد ازاں عدالتی احکامات کے تحت پولیس کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ متعدد افراد آج تک لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن مطالبہ کرتی ہے کہ:
- مجیب اکبر کو فوری طور پر بازیاب کر کے غیر مشروط رہا کیا جائے۔
- اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر کسی مجاز عدالت میں پیش کیا جائے۔
- جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون حراست کے تمام واقعات کا خاتمہ کیا جائے۔
- جموں کشمیر سمیت پاکستان بھر میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تمام سیاسی، طلبہ اور سماجی کارکنوں کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن تمام جمہوری، طلبہ، مزدور، وکلاء، انسانی حقوق اور ترقی پسند تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مجیب اکبر کی فوری بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے بھرپور آواز بلند کریں۔