غلامی سے اجرت تک⁦:⁩نوآبادیات کے معاشی زخم اور ہجرت

مارکس نے محنت کش طبقے کی بے اختیاری کو جس طرح سمجھایا تھا، وہ آج جبری ہجرت اور معاشی بے دخلی کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ صاف دکھائی دیتی ہے۔ محنت کش کے پاس اپنی محنت فروخت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا، کیونکہ اسے زمین، وسائل اور ذرائعِ پیداوار کی ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جب اس کے اپنے خطے میں روزگار کے دروازے بند کر دیے جائیں تو سرحد، زبان اور ثقافت کی رکاوٹیں بھی اس کی مجبوری کے سامنے ثانوی ہو جاتی ہیں۔ وہ کہیں بھی جانے پر مجبور ہوتا ہے جہاں اس کی محنت خریدی جا سکے۔ یوں ہجرت کسی بہتر زندگی کی آزادانہ خواہش نہیں رہتی بلکہ بقا کی ایک تلخ جدوجہد بن جاتی ہے۔

نوجوان، طلبہ سیاست اور عالمی مزاحمت کا نیا دور

موجودہ عہد میں طلبہ سیاست صرف کیمپس کے مسائل تک محدود نہیں رہی بلکہ نوجوان اپنی زندگیوں، مستقبل، جنگ، معاشی استحصال، ریاستی جبر اور سماجی ناانصافی کے وسیع تر سوالات پر متحرک ہو رہے ہیں۔ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی حالیہ عوامی تحریکوں میں نوجوانوں کا کردار اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے، جہاں ایک نئی نسل اپنے مستقبل، شناخت اور بنیادی حقوق کے سوالات کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ترجمان ماہنامہ عزم شمارہ مئی 2026

ماہنامہ عزم، مئی⁦2026⁩شمارہ شائع ہو چکا ہے۔ اس شمارے میں جموں کشمیر میں محنت کشوں، طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کے مسائل اور جدوجہد پر اہم تحریریں شامل ہیں۔ اس شمارے کو یہاں سے ڈاؤنلوڈ کیا جا سکتا ہے یا آن لائن پڑھا جا سکتا ہے۔

مشال خان کے نویں یومِ شہادت پر این ایس ایف کے زیرِ اہتمام مختلف سرگرمیاں ، لہو رنگ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

ممتاز طالب علم رہنما مشال خان کے نویں یومِ شہادت کے موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیرِ اہتمام پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے مختلف شہروں اور جامعات میں “مشال خان کی جدوجہد اور طلبہ کی ذمہ داریاں” کے عنوان سے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد مشال خان … Read more