ہجوم، ہراسانی اور خاموشی:مشال سے فہمیدہ تک
مشال خان سے فہمیدہ لغاری تک کے واقعات اسی جابرانہ نظام کا تسلسل ہیں جو اختلافِ رائے کو کچلتا ہے۔ اس جمود کو توڑنے اور طلبہ کی اجتماعی آواز کو قوت دینے کا واحد راستہ طلبہ یونین کی بحالی ہے۔
مشال جو مارا گیا، مگر مرا نہیں
مشال خان کا قتل محض مذہبی جنونیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے بوسیدہ نظام کا شاخسانہ تھا جہاں شعور اور سوال کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ نو برس گزرنے کے باوجود مشال کا لہو اس استحصالی ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان ہے، جس کا واحد حل ایک منظم انقلابی جدوجہد میں ہے۔
Against the Fragmentation of Bhagat Singh’s Legacy
Bhagat Singh might not have been able to fit himself into neat, enclosed political categories; in his writings, he certainly indicated what he stood for, a revolutionary socialist politics. While the archive is necessarily incomplete, it is not arbitrary, and historical interpretation does not require a finished record; it rarely encounters one.