ممتاز طالب علم رہنما مشال خان کے نویں یومِ شہادت کے موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیرِ اہتمام پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے مختلف شہروں اور جامعات میں “مشال خان کی جدوجہد اور طلبہ کی ذمہ داریاں” کے عنوان سے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔
ان سرگرمیوں کا مقصد مشال خان کی لہو رنگ جدوجہد کو خراج پیش کرتے ہوئے ادھوری جدوجہد کو حتمی مقاصد کے حصول تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرنا تھا۔ ان سرگرمیوں میں این ایس ایف کے مرکزی صدر بدر رفیق، سیکرٹری جنرل ارسلان شانی، جوائنٹ سیکرٹری فیضان عزیز، چیئرپرسن سٹڈی سرکل علیزہ اسلم، ڈپٹی چیئرپرسن سٹڈی سرکل عمیر خالد سمیت متعدد رہنماؤں نے شرکت کی۔
راولاکوٹ
جامعہ پونچھ میں این ایس ایف کے زیرِ اہتمام ایک خصوصی سٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی صدر بدر رفیق، چیئرمین جامعہ پونچھ امن حبیب، علیزہ اسلم، دانش فدا، سمیہ بتول، ماہ نور اسلم، مہرین نساء، حسان علی، اسامہ خان و دیگر نے خطاب کیا۔
کوٹلی
این ایس ایف جامعہ کوٹلی کے زیرِ اہتمام خصوصی سٹڈی سرکل منعقد ہوا جس میں ارسلان شانی، چیئرمین رضوان، وائس چیئرمین عبدالمنان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
ہجیرہ
ہجیرہ آفس میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی نظامت شرجیل شاہ نے کی۔ مقررین میں فیضان عزیز، سعد احمد سعدی، واجد خان، زوناش نئیر، منصور مجید شامل تھے۔
بلوچ
ضلع سدھنوتی کے شہر بلوچ میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں ارسلان شانی اور عمیر خالد نے شرکت کی۔
مظفرآباد
ضلعی دفتر میں ایک خصوصی بیٹھک کا اہتمام کیا گیا جس میں راشد شیخ اور مفید عباسی نے خطاب کیا۔
مختلف تقاریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ مشال خان ایک ترقی پسند نظریات رکھنے والا طالب علم رہنما تھا جس نے طلبہ مسائل کے خاتمے کے لئے ناقابلِ مصالحت جدوجہد کرتے ہوئے اپنی مختصر زندگی کو تاریخ میں امر کر دیا۔ مقررین کا کہنا تھا اسی جرم کی پاداش میں ان کی ناقابلِ مصالحت جدوجہد کو لہو میں رنگتے ہوئے انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ مذہب کے نام پر جھوٹے الزامات کی آڑ میں مشال خان کا سرعام بے رحمانہ قتل ضیاء آمریت کی طرف سے پروان چڑھائی گئی بنیاد پرستانہ سوچ کا ایک مظہر تھا۔
مشال خان کی جدوجہد کو حقیقی خراج اسی صورت پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس بنیاد پرست سوچ کے خلاف مشال کی جدوجہد کو حتمی فتح تک جاری رکھا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ طلبہ کے وہ مسائل جن کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں مشال کو شہید کیا گیا نا صرف آج بھی موجود ہیں بلکہ ان میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان مسائل کے منطقی حل کے لئے ناگزیر طلبہ تحریک اس خطے میں لمبے عرصے سے جمود کا شکار تھی جسے مشال خان کے ناحق خون نے پھر سے جلا بخشی۔
طلبہ کو بے شمار آج بھی مسائل درپیش ہیں لیکن ریاست ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے تعلیم جیسے بنیادی حق کو بھی نیو لبرل پالیسیوں کے تحت منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے مجرمانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ فیسوں میں اضافے کی وجہ سے طلبہ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں ،ہاسٹلز میں غیر معیاری کھانا، ٹرانسپورٹ کے مسائل، یونیورسٹیوں میں ہراسگی کے مسائل سمیت متعدد درسگاہیں خود کشیوں کی صورت قتل گاہوں کا منتظر پیش کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ ہر سال تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کی جاتی ہے۔
مشال خان نے انھی مسائل کے حل کے لیے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کی کوشش کی تھی لیکن اس پہ توہین مذھب کے جھوٹے الزامات لگا کر صرف اس لیے شہید کر دیا گیا تاکہ طلبہ حقوق کے لیے بلند ہونے والی آوازوں کو دبایا جا سکے۔ علاوہ ازیں مقررین کا کہنا تھا کہ این ایس ایف اپنے قیام سے لے کر آج تک طلبہ حقوق کی بازیابی کے لیے جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے ۔ این ایس ایف مشال خان کی جدوجہد اور شہادت کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ ہر تعلیمی ادارے میں کئی مشال خان تیار کرتے ہوئے مستقبل میں طلبہ حقوق کی بازیابی، طلبہ یونین کی بحالی، طبقاتی نظامِ تعلیم کے خاتمے سمیت طلبہ کو درپیش تما مسائل کے خاتمے تک جدوجہد انقلابی جوش و جذبے کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔ سچے جذبوں کی قسم آخری فتح حق کی ہوگی۔
علم جدوجہد فتح