غلامی سے اجرت تک:نوآبادیات کے معاشی زخم اور ہجرت
مارکس نے محنت کش طبقے کی بے اختیاری کو جس طرح سمجھایا تھا، وہ آج جبری ہجرت اور معاشی بے دخلی کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ صاف دکھائی دیتی ہے۔ محنت کش کے پاس اپنی محنت فروخت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا، کیونکہ اسے زمین، وسائل اور ذرائعِ پیداوار کی ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جب اس کے اپنے خطے میں روزگار کے دروازے بند کر دیے جائیں تو سرحد، زبان اور ثقافت کی رکاوٹیں بھی اس کی مجبوری کے سامنے ثانوی ہو جاتی ہیں۔ وہ کہیں بھی جانے پر مجبور ہوتا ہے جہاں اس کی محنت خریدی جا سکے۔ یوں ہجرت کسی بہتر زندگی کی آزادانہ خواہش نہیں رہتی بلکہ بقا کی ایک تلخ جدوجہد بن جاتی ہے۔